18 اپریل ترازو کی فتح اور شہرکی ترقی کا دن ہوگا،حافظ نعیم

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ صرف ترازوہی کراچی کی تعمیرو ترقی اورخوشحالی کا نشان ہے،15جنوری کوبلدیاتی انتخابات میں عوام نے جماعت اسلامی پربھرپواعتماد کرتے ہوئے سب سے زیادہ ووٹ دیے،18اپریل کو خالی نشستوں کے انتخابات میں بھی جماعت اسلامی کے امیدوارکامیاب ہوں گے،پیپلزپارٹی اورسندھ حکومت کے تمام ترہتھکنڈوں اورحلقہ بندیوں میں جعل سازی کے باوجود اہل کراچی نے جماعت اسلامی کو نمبر ون پارٹی بنایا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع کیماڑی کے تحت اتحاد ٹاؤن یوسی 2میں عوامی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیرجماعت اسلامی ضلع کیماڑی مولانا فضل احد حنیف، سیکرٹری ضلع ڈاکٹر نور الحق،نائب امیر ضلع و صدر پبلک ایڈ حمید اللہ خان ایڈوکیٹ،نامزد امیدوارچیئرمین یوسی 2سید اسلام،نامزد امیدواروائس چیئرمین اشفاق حسین ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے آر او اورڈی آراوز کے ساتھ مل کر عوامی مینڈیٹ پر قبضہ کرنا شروع کردیا، 5400والے جماعت اسلامی کے امیدوار کے ووٹ تبدیل کر کے 1030ووٹ کردیے اور پیپلزپارٹی کے امیدوار کو نمبر ون بنادیا،بلاول بھٹو زرداری سن لیں کراچی کو جاگیرداروں اور وڈیروں کی اوطاق نہیں بننے دیں گے،جعل سازیوں اوربدترین دھاندلی کے ذریعے کراچی کا میئر جیالا نہیں بن سکتا،میئر تو صرف جماعت اسلامی کا ہی بنے گا۔
افظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر کراچی کے عوام کو محروم ابن محروم اور غلام ابن غلام بنایا اور بنیادی ضروریات سے محروم رکھا اور عوام کے مسائل حل نہیں کیے اوراب کراچی کے عوام سے ووٹ لینے آگئے ہیں، کراچی کے شہریوں کا ووٹ اب صرف تعمیر و ترقی اور خدمت کے نشان ترازوکے لیے ہوگا۔
انہوں نے مزیدکہاکہ 27رمضان المبارک اس لحاظ سے بھی تاریخی دن ہے کہ اس روز پاکستان معرض وجود میں آیااب اسی دن 18اپریل کو ملتوی شدہ نشستوں پر بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں،اتحاد ٹاؤن کے عوام 18اپریل 27رمضان المبارک کو گھروں سے نکل کر ان تمام پارٹیوں کو مسترد کردیں جنہوں نے عوام کا استحصال کیا ان سے ووٹ لے کر ان کو دھوکادیا اور محرومیوں میں دھکیل دیا۔عوام جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر مہر لگائیں،جماعت اسلامی خدمت اور دیانت کے ساتھ شہر کی تعمیر و ترقی کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی ملتوی شدہ نشستوں پربلدیاتی انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے، وہ جانتی ہے کہ 11نشستوں میں سے 8وارڈ کی نشستیں جماعت اسلامی نے جیتی ہوئی ہیں اس لیے وہ اپنی شکست سے خوف زدہ ہوکر انتخابات سے بھاگنا چاہتی ہے۔سندھ حکومت کراچی کے وسائل پر قابض رہنے کے لیے ہر قسم کے غیر جمہوری اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے،پیپلزپارٹی خود کو جمہوریت پسند پارٹی کہتی ہے لیکن خود ان کی پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: