مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم کی گئی تو ہم نہیں مانیں گے: شرجیل میمن

کراچی: صوبائی وزیراطلاعات اور رہنما پیپلز پارٹی شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم فنڈز میں کرپشن کی، بھارت اور اسرائیل کے کہنے پر آئینی اداروں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں،سندھ حکومت عوام کو مفت علاج کی سہولیات دے رہی ہے،مہنگائی میں لوگوں کو ریلیف دیناچاہتے ہیں، گورنر سندھ اور ہم ایک پیج پر ہیں۔

کراچی پریس کلب میں صحافیوں کے اعزاز میں افطارپارٹی سے خطاب کرتے ہوئےشرجیل میمن نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل حل کریں گے، ان کی ہیلتھ انشورنس شروع کی جائے گی، کل پاکستان کی تاریخ میں آئین کو مقدس سمجھنے والوں کا دن تھا، پارلیمنٹ مقدس ادارہ ہے جو آئین بناتا ہے وہاں قاضی فائز عیسیٰ آئے جو اعزاز تھا۔

انہوں نےکہا کہ بدتمیزی کا طوفان بھارت اور اسرائیل کے کہنے پر برپا کیا جا رہا ہے، جسٹس صاحب کے خلاف منظم مہم چلائی گئی، ان کی آنکھیں اس وقت بند تھیں جب جسٹس ثاقب نثار پی ٹی آئی کے دفاتر میں جاتے تھے، ثاقب نثار سے ان کے وزراء گھر جا کر ملتے تھے، ثاقب نثار نے کینیڈا، امریکا میں لوگوں سے گھروں میں ملاقاتیں کیں، انہوں نے ڈیم تعمیر فنڈ میں کرپشن کی، میرے پاس ثبوت نہیں ہیں ان کو اختیار تھا لیکن انہوں نے غیر آئینی کام کئے۔انہوں نے کہا کون سا مرض سندھ حکومت نے چھوڑا جس کا مفت علاج نہیں ہو رہا،سندھ حکومت عوام کو مفت علاج کی سہولیات دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تو این آئی سی وی ڈی حیدرآباد گئے۔ این آئی سی وی ڈی میں پرائیویٹ اسپتال سے بہتر علاج ہوا۔انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ساتھ ہمارے کوئی اختلافات نہیں ہم ایک پیج پرہیں، اگر مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم کی گئی تو پیپلز پارٹی اسے نہیں مانے گی۔صدر مملکت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان غیر آئینی و غیر اخلاقی کام کر رہے ہیں، انہیں اپنے منصب کا خیال نہیں، عارف علوی صدر کم اور ٹائیگر فورس کے رکن زیادہ لگتے ہیں،صدر مملکت نےغیر قانونی اور غیر آئینی کام کیا،صدر پاکستان کا ریموٹ عمران خان کے ہاتھ میں ہے، عمران کہتا ہے اسٹینڈ اپ تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب عمران کہتا ہے سٹ ڈاؤن تو صدر مملکت بیٹھ جاتے ہیں،البتہ پاکستان کے عوام کو آنکھیں کھولنی چاہیں، ایک گری ہوئی ذہنیت کا لیڈر نفرت کا پیغام پھیلا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی پارلیمنٹ میں منائی جارہی تھی، پارلیمنٹ ہاؤس ایک آئینی ادارہ ہے، اس سے مقدس ادارہ پاکستان میں کوئی نہیں،جسٹس فائز عیسٰی کی پارلیمنٹ میں آئینِ پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت فخر کی بات تھی، تمام معزز جج صاحبان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی، کل جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی جو کہ ڈوب مرنے کا مقام ہے، یہ سارے وہ لوگ تھے جن کی آنکھیں بند تھیں جب کہ کچھ صحافی بھی سوشل میڈیا پر جسٹس فائز عیسیٰ پر تنقید کر رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: