واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

کراچی : واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا،ادارہ فراہمی ونکاسی آب میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس کون ہے؟ نہ سندھ حکومت فیصلہ کرسکی اور نہ ہی ایم ڈی واٹر بورڈ نے کسی افسر کو اہم عہدے پر تعینات کیا ہے، گذشتہ12 روز سے ڈی ایم ڈی فنانس کا عہدہ خالی ہونے سے ادارے کے مالی امور درہم برہم ہوکر رہ گئے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے30 مارچ کو رفیق قریشی کا تبادلہ کرکے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈبلو ایس ایس آئی پی تعینات کیا تھا لیکن خالی ہونے والے عہدے پر کسی افسرکو تعینات نہیں کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق میٹروپولیٹن سٹی کراچی میں فراہمی ونکاسی آب کا سسٹم چلانے والے اہم ترین ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو سندھ حکومت نے یکسر نظر انداز کردیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ واٹر بورڈ میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس کا اہم ترین عہدہ گذشتہ12 روز سے خالی ہے جس پر کسی افسر کو تعینات نہیں کیا جاسکا ہے،واضح رہے کہ چیف سیکریٹری سندھ نے30مارچ کو سابق ڈی ایم ڈی فنانس رفیق قریشی کا تبادلہ کرکے انہیں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈبلو ایس ایس آئی پی تعینات کردیا تھا لیکن ڈی ایم ڈی فنانس کے خالی ہونے والے عہدے پر کسی افسر کی تعیناتی نہیں کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بھی مذکورہ عہدے پر کسی افسر کی تعیناتی کا آرڈر جاری نہیں کیا جس کے باعث واٹر بورڈ میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس کا عہدہ کس کے پاس ہے ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے،واٹر بورڈ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ رفیق قریشی جن کا ڈی ایم ڈی فنانس کے عہدے سے تبادلہ کرکے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈبلو ایس ایس آئی پی تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے سندھ حکومت کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈبلو ایس ایس آئی پی کا چارج تو فوری طور لے لیا ہے تاہم ڈی ایم ڈی فنانس کے عہدے کو بھی نہیں چھوڑا ہے،واٹر بورڈ کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کے احکامات کے تحت رفیق قریشی کا محکمہ فنانس سے تبادلہ کردیا گیا ہے اور یہ عہدہ قانونی طور پر خالی ہے،رفیق قریشی کی جانب سے ڈی ایم ڈی فنانس کا چارج نہ چھوڑ ناسندھ حکومت کے احکامات کے ساتھ سنگین مذاق ہے جس کا اعلی حکام فوری طور پر نوٹس لیں جبکہ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بھی موجودہ صورتحال پر خاموشی اختیار کررکھی ہے اور کسی افسر کو ڈی ایم ڈی فنانس کا چارج نہیں دیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ میں انتظامی امور کے ساتھ ساتھ مالی امور بھی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: