ادارہ نورحق میں ”مردم شماری مانیٹرنگ سیل” ویب پورٹل کا افتتاح

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ڈیجیٹل مردم شماری میں جعلی سازی، بے ضابطگیوں اور کراچی کی آبادی کو کم دکھانے کے حوالے سے جماعت اسلامی کراچی کے تحت بدھ کو ادارہ نورحق میں ”مردم شماری مانیٹرنگ سیل” ویب پورٹل www.ji-census-cell.comکا افتتاح کردیا۔

اس موقع پر جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان،ڈپٹی سیکرٹری یونس بارائی، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،مانیٹرنگ سیل کے انچارج عمران شاہدودیگر بھی موجود تھے۔

بعد ازاں حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر کراچی کے عوام کے ساتھ دھوکا اورظلم کیا جارہا ہے جسے ہم کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں جتنے بھی تحفظات، اعتراضات، جعل سازیاں اور بے ضابطگیاں ہیں ان کو سامنے لایا جائے گا، ادارہ نورحق میں مانیٹرنگ سیل او ر ایک ویب پورٹل کا آغاز کردیا ہے جس میں کراچی میں رہنے والے شہری اپنی شکایات اور اعتراضات درج کراسکیں گے عوا م اس پورٹل پر اندراج کرائیں،جماعت اسلامی کے نومنتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی اپنے اپنے علاقہ جات میں معلوم کریں گلی گلی جائیں اور جن لوگوں کو شمار نہیں کیا گیا ان کا اندراج کروائیں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ادارہ شماریات کے مطابق کراچی کی آبادی ایک کروڑ بچاس لاکھ ہے، کراچی میں کے الیکٹرک کے 34لاکھ میٹرز موجود ہیں جس میں فی میٹر کو 6افرا د سے ضرب کیا جائے تو یہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد تعداد بنے گی،اگر ہم گیس کے کنکشن دیکھیں تو 23لاکھ ڈومیسٹک میٹر ز موجود ہیں،عام طور پر گیس کا میٹر ایک گھر کے لیے لگایا جاتا ہے جس میں دو سے تین فیملیز رہتی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ مردم شماری میں باقاعدہ خانہ شماری نہ ہونا، ڈیڑھ ہزار کے قریب بلاکس کوڈ غائب ہوجانا اور عملے کی سفری سہولیات کے لیے ڈی سیز کو کروڑوں روپے کے بجٹ جاری ہونے کے باوجود عملے کوسفرکی سہولت میسر نہ آناانتہائی قابل مذمت اور تشویش ناک ہے جب سرکاری عملے کو سفر کی سہولیات نہیں ملے گی تو وہ مہنگائی کے اس دور میں کیسے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے دور دراز علاقوں میں مردم شماری کرنے جائے گا؟۔

انہوں نے کہاکہ 2017 کی مردم شماری میں تحفظات ہونے کے باوجود پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ میں جعلی مردم شماری کو درست قرار دے کرنوٹیفائی کیا اور کہا کہ اگلی مردم شماری میں یہ غلطیاں نہیں ہوں گی،ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے ڈیڑھ سال صرف ٹیبلٹس کی خرید وفروخت پر لگادیے گئے اواس کی ایس او پی وفاقی کابینہ میں بنائی گئی جس میں مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم تینوں جماعتیں شامل ہیں، وہ بتائیں کہ انہوں نے اسٹیک ہولڈر ز جماعتوں کے لیے ایکسس کیوں نہیں رکھاتاکہ چیک کیا جاسکے کہ کتنے لوگوں نے مرد م شماری میں حصہ لیا ہے یاکتنے لوگ اب تک گنے جاچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: