ڈیجیٹل مردم شماری : 5 سال میں کراچی کی آبادی میں صرف 12 لاکھ اضافہ

اسلام آباد،کراچی: ملک میں ڈیجیٹل مردم شماری کی تاریخ میں 20اپریل تک توسیع کردی گئی۔مردم شماری کی تاریخ میں اضافہ کچھ علاقوں میں کام مکمل نہ ہونے کی بناء پر کیا گیا ہے۔

ترجمان ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ روز وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت مردم شماری کی مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزیر امین الحق بھی شریک تھے۔

اجلاس میں مردم شماری کی تاریخ میں5 روزکی توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق ملک کے 122 اضلاع کی مردم شماری مکمل ہو چکی اور پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا 97 فیصد کام مکمل کرلیا گیا تاہم چندبڑے شہروں راولپنڈی،لاہور،کراچی اوربلوچستان میں مردم شماری کا 3 فیصد کام رہتا ہے۔

چیف شماریات نعیم الظفر کےمطابق پنجاب میں مردم شماری کا 99 ، سندھ میں 98 ، بلوچستان میں 82 جبکہ آزاد کشمیراور خیبرپختونخوا میں 100 فیصد کام مکمل کرلیاگیا ۔

مجموعی طور پر 156 اضلاع میں سے 131 اضلاع میں 90 فیصد کام مکمل کر لیا گیا،اب تک کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 23 کروڑ 4 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

ڈائریکٹر ادارہ شماریات سندھ منور علی گھانگر وکے مطابق اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی آبادی 5 کروڑ 43 لاکھ سے زائد ہے۔مردم شماری کےعمل میں 5 روزہ توسیع کے دوران کراچی کی آبادی میں 12 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا جبکہ سندھ کی آبادی 4 کروڑ 83 لاکھ سے بڑھ کر 5 کروڑ 43 لاکھ ہوگئی۔منور گھانگرو کے مطابق حیدرآباد ڈویژن کی آبادی ایک کروڑ 9 لاکھ سے ایک کروڑ 12 لاکھ ہو گئی ہے جبکہ کراچی ڈویژن کی اب تک کی آبادی 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ کی آبادی 74 لاکھ سے زائد جبکہ میرپور خاص کی آبادی 48 لاکھ سے زائد ہے، اسی طرح شہید بینظیر آباد ڈویژن کی آبادی57 لاکھ سے زائد اور سکھر ڈویژن کی آبادی 60 لاکھ سے زائد ہے۔ادھرچیف شماریات کی زیرصدارت مردم شماری پر اہم اجلاس ہوا جس میں پورے ملک میں ہونیوالی ڈیجیٹل مردم شماری پر رپورٹس کا جائزہ لیا گیا ۔

مردم شماری کے حوالے سے چاروں صوبوں میں کام کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: