Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر گھر واپس پہنچ گئے | زرائع نیوز

سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر گھر واپس پہنچ گئے

معروف سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر باحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں۔

ایک روز قبل کلفٹن سے مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے جانے والے معروف سماجی رہنما اب سے کچھ دیر قبل خیر و عافیت سے گھر پہنچے ہیں۔

فیملی نے ذرائع کو بتایا کہ وہ بظاہر بالکل ٹھیک ہیں مگر گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے دماغی طور پر تھوڑے متاثر ضرور ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل جبران ناصر کو کلفٹن میں گھر کے قریب سے اُس وقت سفید ویگو میں سوار افراد اپنے ساتھ بیٹھا کر لے گئے تھے جب وہ اہلیہ کے ساتھ کھانا کھا کے گھر کی طرف واپس لوٹ رہے تھے۔

جبران کی اہلیہ اور اداکارہ منشا پاشا سے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنا ایک بیان جاری کیا تھا اور تمام لوگوں سے آواز اٹھانے کی اپیل کی تھی بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیا تو کلفٹن تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج ہوا۔

اہلیہ کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں لکھا گیا تھا کہ  معرات کی شب وہ اپنے شوہر جبران ناصر کے ساتھ کھانا کھاکر واپس گھر جارہے تھے کہ راستے میں ویگو میں سوار 10 ۔15 مسلح افراد نے گھیر لیا اور میرے شوہر کو گاڑی سے اتار کر اغوا کرکے لے گئے واقعے کے فوری بعد میں نے 15 مددگار پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس کے مطابق جبران ناصر کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور ان کے موبائل فون کی لوکیشن بھی حاصل کی گئی ہے اغوا کے کچھ ہی دیر بعد مغوی کا فون بند ہوگیا تھا اس کے باوجود سی سی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے تاکہ معلوم ہوسکے مغوی کو ملزمان کس راستے سے لے کر گئے ہیں۔

ایس پی ساؤتھ کے ترجمان نے بتایا کہ جبران ناصر کا اب بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور اُن سے واقعے کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی تاکہ ایف آئی آر کی روشنی میں کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے۔