دہشت گردی کا مقدمہ: صابر شاکر نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگادیا

معروف صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ سمیت 4 افراد کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

شہری ماجد محمود کی جانب سے اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں صابر شاکر، معید پیرزادہ سمیت 4 افراد کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمے میں 9 مئی کو ویڈیو پیغامات کے ذریعے فوجی تنصیبات پر حملوں کے لیے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں صابر شاکر اور معید پیرزادہ کے علاوہ محی الدین اور سید اکبر حسین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں شہری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ 9 مئی کو جارہے تھے کہ میلوڈی میں 15، 20 افراد ملزمان کے ویڈیو پیغامات کے ذریعے لوگوں کو دہشت گردی پر اُکسارہے تھے۔ مظاہرین صابرشاکر، معید پیرزادہ و دیگر سے دہشت گردی پھیلانے کی ہدایات لے رہے تھے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان عسکری تنصیبات پر حملے کرکے ملک میں دہشت گردی اور انتشار پھیلانا چاہتے تھے۔ ملزمان بیرونی ممالک میں رہ کرملک دشمن ایجنسیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ملزمان فوجی جوانوں کے اندر بغاوت اور ان کے حلف سے روگردانی کرانا چاہتے ہیں۔ ملزمان فوج کو کمزور کرکے ملک میں دہشت گردی کوپروان چڑھاناچاہتے ہیں۔

مقدمے پر ردمل دیتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ ’اللہ سب جانتا ہے ، سب سے پہلے پاکستان سب آئین پاکستان کے تابع ہیں تادم حیات پاکستان زندہ باد کہتے رہے ہیں‘۔

شاہین صہبائی نے بھی ایف آئی آر کے اندراج پر ردعمل جاری کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت دیگر صحافیوں کیخلاف درج ہونے والی ایف آئی آر اور نو مئی کے الزامات بے بنیاد ہیں، میں اس پر سب کو کورٹ میں لانے کا حق رکھتا ہوا اور اس حوالے سے جلد اپنی جانب سے جواب دوں گا۔

اُدھر معید پیر زادہ نے اس حوالے سے اپنا تفصیلی ویڈیو جاری کیا اور مذاق بناتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ذہین لوگوں کا کام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: