Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
رکن اسمبلی خواجہ اظہار نے پرائیوٹ اسکول مافیا کے خلاف صدائے احتجاج بلند کردی | زرائع نیوز

رکن اسمبلی خواجہ اظہار نے پرائیوٹ اسکول مافیا کے خلاف صدائے احتجاج بلند کردی

ایم کیو ایم کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے ہم ایوانوں میں ہیں۔

سندھ اسمبلی اجلاس بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم ایوانوں میں ہیں، یہ ٹیکس فری بجٹ ہے حکومت ٹیکس لگا سکتی ہے لیکن نہیں لگا رہی ہے، اس بجٹ میں 80 سے زائد ٹیکس لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بجٹ ایسا نہیں ہے جس پر ہم فخر کر سکیں، بجٹ پر بات کریں تو کیسے کریں، 900 فیصد بجٹ میں اضافہ ہوا، کیا 100 فیصد بہتری ہوئی ہے ، اپوزیشن کی بجٹ میں کوئی تجویز نہیں ہوتی ہے، صحت کی کون سی سہولیات ہیں چلیں میرے ساتھ ، کوئی وزیر چلے میرے ساتھ سول میں ایڈمٹ کو کر دکھائے پتا چل جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے افس میں ایک کام کرنے ولا شخص صرف اسلئے چھوڑ گیا کے اس کی بیگم کا اعلاج نہیں ہوا، میں مکیش کو چار مرتبہ کال کی بھر بھی علاج نہیں ہوا۔‘

خواجہ اظہار نے کہا کہ تعلیم پہ کیا بات کی جائے پرائیوٹ اسکول اپکے کنٹرول میں نہیں ہیں، پرائیویٹ اسکول مافیا سے بچنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جو بچہ پیدا نہیں ہوتا اُس کا داخلہ کرانا اور فیس دینی ضروری ہے‘۔

خواجہ اظہار نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولز کتابیں بھی خود بیچتے ہیں اور دو ماہ کی چھٹیوں کی بھی فیس لی جارہی ہے، ایسا وقت نا ائے کے پرائیوٹ اسکول والے نائی کا بھی بتائیں کے وہ ہمارے اسکول کے مطابق کٹنک کرتے ہیں، پرائیوٹ اسکول والے یہ بھی نہ بول دیں کے قربانی کا گوشت یہاں جمع کرائیں کیونکہ آپ کا بچہ یہاں پڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولز کو کنٹرول میں لانا ہوگا۔