عوام کی خواہش ہے سب ایک جگہ بیٹھیں، اللہ سے قوی امید ہے سب بہتر ہوگا، آفاق احمد

مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کی تشکیل عظیم احمد طارق نے کی۔

ایف آئی آر ود فہیم صدیقی کے سیگمنٹ پوسٹ مارٹم میں گفتگو کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ ہمارا سفر 1992 سے شروع نہیں ہوا بلکہ 1984 سے جاری ہے، میں نے خود کو کبھی مہاجر قومی موومنٹ سے علیحدہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب الطاف صاحب نے متحدہ قومی موومنٹ بنانے کا فیصلہ کیا تو پھر ہم نے اس لفظ مہاجر قومی موومنٹ کو اس صورت میں زندہ رکھا، ہمارے فیصلے کے بعد الطاف حسین نے متحدہ کی تشکیل کے اعلان میں تاخیر کی تھی جس کی وجہ سے فرق رکھنے کے لیے ہم نے لفظ حقیقی کو اپنے لیے استعمال کیا پھر جب متحدہ کا اعلان ہوگیا تو حقیقی کا لفظ ہم نے ختم کردیا۔

آفاق احمد نے کہا کہ مہاجر قومی موومنٹ وہی ہے جو عظیم احمد طارق نے 1984 میں بنائی تھی اور پھر ہم نے اس کو ختم نہیں ہونے دیا۔

مہاجر سیاست شروع ہونے کے بعد قوم نے کیا حاصل کیا؟ اس سوال کے جواب میں ایم کیو ایم حقیقی کے چیئرمین نے کہا کہ ’طویل عرصے تک تو باقی قومیتوں کی طرح آپ کو گننے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا، مہاجر سیاست کی وجہ سے ہمیں شناخت ملی اور تسلیم بھی کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’تمام سیاسی جماعتوں نے آپ کو مہاجر سیاست کی حیثیت سے ہی شمار کیا اور سیاسی رہنما اُس وقت بھی الطاف صاحب یا مہاجر قومی موومنٹ کے پاس حمایت کے لیے گئے تھے، ہماری بڑی کامیابی یہ ہے کہ شناخت کے معاملے میں کوئی ابہام نہیں رہا اور آج پیدا ہونے والا بچہ بھی خود کو مہاجر کہتا ہے اور اس شناخت پر فخر کرتا ہے۔

مستقبل میں قوم کو ملنے والی کامیابی کے سوال پر آفاق احمد نے کہا کہ ’یہ ایک تحریک ہے جس کا سفر چلتا رہتا ہے، اس میں نشیب و فراز بھی آتے ہیں، کبھی قدرت کی طرف سے موقع ملتا ہے تو آپ اُس کا فائدہ اٹھا کر قوم کے لیے کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ سے قوی امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں قوم اور عوام کے خیال و سوچ کہ سب کو ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر معاملات حل کرنے چاہیں اور ہوسکتا ہے کہ عوام کی اس خواہش پر سب کو عمل کرنا پڑے اور اگر اس عمل میں ہم کہیں رکاوٹ بنتے ہیں تو عوام ہمیں مسترد کردیں گے اور اگر کوئی اور بنا تو اُس کے ساتھ بھی یہی ہوگا کیونکہ عوامی خواہش کا احترام سب کو کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اضطراب کی کیفیت انشا اللہ تعالیٰ ضرور ختم ہوگی اور مہاجر قوم کو لوگ ایک طاقت کے دور پر دوبارہ سے لوگ تسلیم کریں گے، جو غلطیاں ہوئیں اور اُسی بنیاد پر قوم کو کچلنے کی کوشش کی گئی وہ انفرادی غلطیاں تھیں۔

آفاق احمد نے کہا کہ ’اگر الطاف حسین نے کوئی غلط بات کی تو قوم نے اُسے احساس دلایا جس پر اُس نے کسی کے خوف سے نہیں بلکہ قوم کی وجہ سے اپنی غلطی اور ندامت کا اظہار کیا، ماضی میں جی ایم سید، غفار خان نے انفرادی غلطیاں کیں تو پوری قوم کو دشمن یا غدار قرار نہیں دیا گیا، اسی طرح مہاجروں کے معاملے میں بھی سوچنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ مہاجر قوم کو سوچنا پڑے گا کہ وہ ایک شخص کی انفرادی غلطی تھی جس کا پوری قوم سے کوئی تعلق نہیں، جس دن یہ سوچ آگئی اُس روز سے مہاجر قوم اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز کرے گی۔

آفاق احمد نے کہا کہ تحریکوں میں غلط فیصلے ہوتے ہیں جس پر ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے، اس لیے نظر ثانی ضروری ہے، اگر انا کی خاطر میں پیچھے نہ ہٹوں تو یہ بے وقوفی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: