بولی وڈ کی معروف کوریو گرافر اور فلم ساز فرح خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے بچپن میں ایک وقت ایسا تھا جب ان کی فیملی گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ کر سوتی تھی۔
’ میں ہوں نا‘ اور ’ او م شانتی اوم ‘ جیسی فلموں کی ہدایت کارہ نے منیش پاول کی پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ ان کے لڑکپن میں ایک وقت ایسا آیا تھا کہ ان کی فیملی گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ کر سوتی تھی۔
فرح خان نےا س کی وجہ یہ بتائی کہ اس وقت ان کے معاشی حالات اتنے خرابب ہوچکے تھے کہ گھر میں کچھ بھی نہیں تھا جس کی چوری کا انہیں ڈر ہوتا۔
یہاں تک کہ گھر کا تالا خراب ہوگیا تو اسے ٹھیک کرانے کے لیے بھی ان کے پاس پیسے نہیں تھے، چنانچہ وہ دروازہ بند کرکے اور اس کے پیچھے کوئی وزنی چیز رکھ کر سوجاتے تھے۔
فرح خان کے والد کامران خان فلم ساز تھے۔ انہوں نے اپنا تمام سرمایہ اپنی آخری فلم ’’ ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ پر لگادیا تھا۔ یہاں تک کہ اپنی بیوی کے زیور تک فروخت کردیے تھے کیوںکہ انہیں اس فلم کے ہٹ ہونے کا یقین تھا۔
مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ریلیز کے اگلے ہی دن یہ فلم بری طرح فلاپ ہوکر سنیماؤں سے اتر گئی اور کامران خان کا پورا سرمایہ ڈوب گیا۔
فرح خان کا کہنا ہے کہ یہ ان پر بہت مشکل وقت تھا۔ فلم کی ناکامی کے بعد ان کے والد شراب میں ڈوب گئے تھے، جس کی وجہ سے ان کی والدہ انہیں اور ان کے بھائ ساجد خان کو لے کر اپنی کزن کے گھر چلی گئی تھیں۔
پانچ سال کے بعد وہ پھر اپنے گھر واپس آگئے مگر غربت انتہا کی تھی۔ گھر میں کوئی قیمتی چیز نہیں تھی۔ یہاں تک دروازے کا تالا خراب ہوا تو ان کے پاس اسے ٹھیک کرانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔
چنانچہ وہ دروازہ بھیڑ کر سوجاتے تھے کہ اگر کوئی چور آیا بھی تو بجائے لینے کے کچھ دے کر ہی جائے گا۔
