کراچی، رواں‌ سال میں ڈکیتی مزاحمت پر اب تک 111 شہری قتل

شہر قائد میں ڈکیتوں کا راج اور بلا خوف و خطر کارروائیاں جاری ہیں اور انہوں نے رواں سال کے 9 ماہ میں اب تک 111 شہریوں کو مزاحمت پر قتل کردیا جبکہ ڈکیتوں کی آزادانہ اور بلا خوف کارروائیاں دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ خدا نہ کرے اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

شہر قائد کے علاقے کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں دو روز قبل والد کے ساتھ زخمی ہونے والا بیٹا دوران علاج جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد رواں سال میں اب تک ڈکیتی مزاحمت پر مرنے والے شہریوں کی تعداد 111 تک پہنچ گئی۔

ڈکیتوں نے رواں سال جنوری میں 13 ، فروری 12 ، مارچ 10 ، اپریل 12 ، مئی 15 ، جون 9 ، جولائی 12 ، اگست 8 جبکہ رواں ماہ ستمبر کے 20 روز میں 9 شہریوں کو مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔

اب تک کے ہونے والے واقعات میں تین خواتین اور پولیس اہلکاروں کو بھی مزاحمت پر قتل کیا گیا جبکہ کورنگی میں ہی باپ اور بیٹے کو دکان کے اندر گولی مار کر ابدی نیند سلایا گیا۔ جبکہ مزاحمت پر زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

آئی جی سندھ، پولیس کے اعلیٰ افسران اور سندھ حکومت شہر سے اسٹریٹ کرائم ختم کرنے کے دعوے تو کرتی ہے تاہم یومیہ بنیادوں پر چار سے 6 وارداتیں رپورٹ ہورہی ہیں جبکہ متعدد شہری تو سسٹم سے مایوس ہو کر اپنے ساتھ پیش آئے واقعات کی رپورٹ نہیں کرواتے۔ پولیس نے بھی اب تک تقریبا 100 سے زائد ملزمان کو مقابلوں کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا ہے۔

آئی جی سندھ کی تبدیلی کے بعد ڈاکٹر رفعت نے عہدہ سنبھالنے اور نگراں وزیر داخلہ نے قلمدان اٹھانے کے بعد شہر سے اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کا دعویٰ کیا تھا تاہم حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی اور شہری یومیہ بنیادوں پر جان و مال سے محروم ہورہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: