جہالت کے اندھیروں میں حضور ﷺ کے سبب روشنی حاصل کی جاتی ہے، علامہ محمد الیاس عطار قادری

امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری نے کہا ہے کہ حضور پر نور ﷺ کا ایک لقب سراج اور منیر ہے، سراج سے مراد چمکدار سورج اور منیر کا مطلب روشنی دینے والا ہے، یہ لقب قرآن کریم میں آپ ﷺ کیلیے ہے،یعنی روشنی دینے والا،چمکانے والا آفتاب ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں ربیع الاول کی مناسبت سے ہونے والے مدنی مذاکروں میں کیے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ امیر اہلسنت نے کہا کہ حضور پر نور ﷺاللہ پاک کی طرف سے بالکل واضح دلیل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہالت کے اندھیروں میں حضور ﷺ کے سبب روشنی حاصل کی جاتی ہے اور فہم وفراست کے انوار حضور ﷺ ہی سے فیضیاب ہوتے ہیں، جس طرح سورج کی روشنی تمام عالم کو گھیرے ہوئے اسی طرح سارا جہان آپ ﷺ کے نور سے منور ہے۔

امیر اہلسنت نے کہا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ستاروں کو مسافروں کی رہنمائی کیلیے بنایا اور سورج کو ان سے نمایاں کردیا، ستارے بھی چمکتے ہیں اور سورج بھی چمکتا ہے، ستارے باریک ہوتے ہیں اور سورج بالکل نمایاں ہے، اسی طرح انبیائے کرام کو اللہ پاک نے گمراہ لوگوں کی ہدایت کیلیے بھیجا اور ہمارے حضور ﷺ کو اس بات اور تمام فضائل وکمالات میں تمام انبیاء سے افضل واکمل کیا۔

امیر اہلسنت نے کہا کہ آپ ﷺ کا دیدار دلوں کو جیت لینے والا ہے، اس روشنی دینے والے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی اور جگر تازہ ہوتے اور پیاسی جانیں سیراب ہوجاتی ہیں، اللہ پاک کے بعدافضل آپ ﷺ کی ذات پاک ہے، مخلوقات میں سب سے افضل آپ ﷺ کی ذات ہے، اللہ پاک خالق ہے،اسی نے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے۔

علامہ محمد الیاس عطار قادری کا کہنا تھا کہ بہت بڑا عالم ہو،جس کے پاس بہت بڑا علم کا ذخیرہ ہو،ذہین ترین ہو تو بھی مبارک پاؤں کا تھوڑا حصہ وہ بھی شاید بیان کرجائے تو کرجائے، اگر آسمان آپ ﷺ کے تلوؤں کا نظارہ کرلیتا تو روز ایک چاند آپ ﷺکے مبارک تلوے پر قربان کیا کرتا، الفاظ کا ذخیرہ تو ختم ہوسکتا ہے مگر محبوب کریم ﷺ کی شان اور آپ ﷺ کی ثناء خوانی ختم نہیں ہوسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: