کراچی میں‌ اتوار تک شدید گرمی کا امکان، درجہ حرارت 41 ڈگری تک جاسکتا ہے

محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں اتوار تک گرمی کی شدت برقرار رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران درجہ حرارت 41 ڈگری سے بڑھ سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین روز کے دوران شہر میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ سمندری ہوائیں بند ہونے کا بھی امکان ہے جس کے باعث دوپہر کے وقت لو کے تھپیڑے چل سکتے ہیں۔

جمعرات کو شہر بھر میں درجہ حرارت 39.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ اس کی شدت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دیہی سندھ کے اضلاع بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے،جمعرات کو شہید بے نظیرآباد میں درجہ حرارت 42.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ سمندری ہوائیں مختصروقت کے لیے معطل ہونے کے سبب ہیٹ ویو کا کوئی امکان نہیں ہے،

شہر میں جمعرات موسم گرم وخشک ریکارڈ ہوا، دوپہر کے وقت سمندری ہوائیں متاثرہونے اوربلوچستان کی شمال مغربی ہوائیں شہر پراثراندازہونے کے سبب دوپہر کے وقت گرمی کی شدت محسوس کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.1ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کاتناسب 43فیصد رہا۔ ارلی وارننگ سینٹرکی پیش گوئی کے مطابق اگلے 3سے4روز کے دوران شہر میں گرم وخشک موسم برقراررہنے کی توقع ہے،جس کے دوران پارہ 41 ڈگری سے تجاوزکرسکتا ہے۔

ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق گرمی کی جذوی لہر کے دوران صبح سے دوپہرکے درمیان سمندری ہوائیں معطل رہ سکتی ہیں،اس دوران گرم ریگستانی(بلوچستان کی شمال مغربی)ہوائیں چلنے کی توقع ہے،تاہم شام کے وقت سمندر کی بند ہوائیں بحال ہونے کا امکان ہے۔

جنوبی سندھ میں موسم گرم/ انتہائی گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے،حیدرآباد،ٹھٹھ،سجاول،بدین،عمرکوٹ اورتھرپارکرمیں درجہ حرارت 40 ڈگری تک رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو دیہی سندھ کے اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے، سب سے زیادہ درجہ حرارت شہید بے نظیرآباد میں 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردارسرفراز کے مطابق گرمی کی مذکورہ لہرکسی ہوا کے دباؤکے سبب نہیں ہے بلکہ موسم کی منتقلی اورہواؤں کی سمت تبدیل ہونے کے سبب  ہے، جس سے کراچی اوردیہی سندھ کے اضلاع کو متاثرہوں گے، تاہم گرمی کی اس لہر کے دوران ہیٹ ویو کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ سمندری ہوائیں کچھ وقت کے لیے بند ہونے کے بعد واپس بحال ہوجائیں گی۔

شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ بالخصوص دوپہر کے وقت اپنے گھروں سے اُس وقت تک نہ نکلیں جب تک سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ مکمل چمک رہا ہو۔

اس دوران بزرگوں اور بچوں کو گھروں میں رکھیں اور اگر باہر جانا بہت ضروری ہو تو پھر سر کو ڈھانپ کر نکلیں۔ بزرگوں  اور بچوں کو خاص طور پر پانی کا زیادہ استعمال کروائیں جبکہ جسم میں نمکیات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی خاص مشروبات کا استعمال کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: