Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the wordpress-seo domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6114
سکرنڈ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، گورنر سندھ |

سکرنڈ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، گورنر سندھ

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سندھ کے علاقے سکرنڈ میں پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاط میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سکرنڈ میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ عید میلاد نبی کے موقع پر ایسا (مستونگ) واقعہ کرنا لوگوں کی خوشیوں میں غم ڈالنا ناقابل برداشت ہے، بتانا چاہتا ہوں کہ کئنیڈا میں را کے ملوث ہونے کا بتایا گیاْ

انہوں نے کہا کہ پہلی بار انڈیا ایک ایسے جرم کا مرتب ہوا جہاں شواہد بھی ہیں اور الزام لگانے والا طاقتور ملک ہے۔ ہم بار بار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ڈالرز دے کر دہشت گردی کروائی جاتی ہے۔ کئنیڈا نے اس واقعے کو نہ دبایا نہ خاموش ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج کے دن (عید میلاد النبی) پر دشمن بھی ایسی کارروائی کرنے سے ڈرتا۔ یہ منظم دہشتگردی ہے، یہ معاشی دہشتگردی ہے طئے شدہ ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ سکرنڈ واقعے سے دل بہت غمزدہ ہے۔ ہمیں طئے کرنا ہوگا کہ ہم آپس میں لڑتے رہیں گے یا ازلی دشمن کا مقابلہ کریں۔ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم اپنی فورسز کی بیک پر کھڑی رہی۔ جس طرح کئنیڈا نے کیا۔ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان غریب سے غریب ہو اور معاشی بدحالی کا شکار رہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن بھلایا نہیں جا سکتا ، ہم میں ہمت اور طاقت ہے ، طالبان اور دہشتگردوں کے پیچھے ہاتھ ایک ہی ہے، اس بار کارروائی ہونی چاہیے، جس جس نے قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے انکو سخت سزا دینی چاہیے، میرے حساب سے نے انکو الٹا لٹکا دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مئی 9 کو حساس اداروں اور قومی املاک کو جلایا گیا قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، وقت آگیا ہے کہ 9 مئی کے واقعہ میں ملوث افراد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔