ایم کیوایم کا فیض آباد دھرنا کیس میں نظر ثانی درخواست واپس لینے کا فیصلہ

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کا بڑا فیصلہ، فیض آباد دھرنا کیس میں ایم کیو ایم کل نظرثانی درخواست واپس لے لے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم رابط کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں قانونی مشیر بھی شامل تھے۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں ایم کیو ایم کی جانب سے دائر کی گئی نظر ثانی درخواست کو واپس لے لیا جائے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے عدالت میں کل وکلاء درخواست جمع کرادیں گے جس میں عدالت کو مطلع کیا جائیں گا کہ جماعت اس نظر ثانی درخواست سے الگ ہورہی ہے۔

ایم کیو ایم نے چار سال قبل فیض آباد دھرنا کیس کے گیلے دیگر فریقین کے ساتھ چیلنج کیا تھا اور فیصلے پر اعتراضات اٹھائے تھے اور دیگر فریقین کہ طرح پارٹی کی جانب سے بھی نظرثانی درخواست جمع کرائی گئی تھی تاہم چار سال سے ان درخواستوں پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تھی ۔

علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ملیر ٹاؤن کے زیر اہتمام عوامی جلسہ کا انعقاد کیا گیاجلسہ گاہ کے اطراف میں عمارتوں کوپارٹی رچم آویزاں کرکے سجایا گیا تھا اور سیکورٹی کے بھی بہترین انتظامات کئے گئے تھے۔ جلسے کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا، اسٹیج پر کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر ڈپٹی کنوینرز سید مصطفی کمال، ڈاکٹرفاروق ستار، نسرین جلیل و ڈپٹی کنوینرز انیس قائم خانی، عبدالوسیم، خواجہ اظہارِ الحسن، اراکینِ رابطہ کمیٹی بھی موجود تھے۔ملیر کے حق پرست بزرگ مائیں بہنیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ٹولیوں کی شکل میں جلسہ گاہ کے اطراف جمع ہونا شروع، عوام نے ہاتھوں میں ایم کیو ایم اور پاکستانی پرچم تھام رکھے تھے اور ایم کیو ایم کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے جلسہ گاہ میں داخل ہوتے رہے، صحافی حضرات ایم کیو ایم قیادت کے انٹرویو لینے میں مصروف تھے۔ جلسے میں نوجوانوں، بچوں، ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ میڈیا سیل کے ذمہ داران جلسہ گاہ کی لحمہ بالمحہ نیوز سے دنیا بھر کی عوام کو آگاہ کرنے میں مصروف تھے جلسہ گاہ ،کے اطراف ٹریفک کنٹرول کے انتظامات ایم کیو ایم کے کارکنان نے سنبھال رکھے تھے۔ملیر ٹاؤن میں منعقدہ عوامی اجتماع سے کنوینرڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جلسہ گاہ میں ہزاروں شرکاء کی ریکارڈ تعداد میں شرکت کے باعث ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا منظر پیش کر رہا تھا، جلسہ گاہ میں 80 فٹ لمبا، 30 فٹ چوڑا اور 10 فٹ بلند خوبصورت اسٹیج تیار کیا گیا جس کے عقب میں 20×40 فٹ کی اسکرین لگائی گئی تھی۔ اسٹیج کے سامنے شرکاء کیلئے کرسیاں لگا کر نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا جبکہ اسٹیج کے دائیں جانب صحافیوں کے لئے پریس گیلری بھی موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: