ہم شہدا قبرستان بھرنے نہیں زندہ لوگوں کو منزل پر پہنچائیں گے، خالد مقبول

کراچی:کنوینرایم کیوایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ ہم شہدا قبرستان بھرنے نہیں زندہ لوگوں کو منزل پر پہنچائیں گے آج ملیر ٹاؤن نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور یہ انتخابی نہیں انقلابی جلسہ ہے ہم یہاں الیکشن جیتنے نہیں بلکہ دل جیتنے آئے ہیں اس شہر اور اس ملک کے وارث یہاں بیٹھے ہیں ملیر اور شہر کراچی دیکھ لو تمہارے وارث اور نگہبان واپس آگئے ہیں 22اگست کے بعد ایم کیو ایم بکھر نہیں رہی نکھر رہی  ۔ ہے تبدیل نہیں ہورہی تجدید ہورہی ہے انتخابات ہماری منزل نہیں ہماری منزل کا راستہ ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام ملیر سعود آباد روڈ پر عوامی جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ہم اس ملک کے وارث ہیں اور ہم نے22لاکھ نفوس کی قربانی دیکر ملک حاصل کیا جو اس شہر کے صدقہ میں پل رہے ہیں وہ زیادہ ترقی کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم اب یہ نا انصافی نہیں ہونے دیگی ہمیں ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایوانوں کو ہماری ضرورت ہے ہم ہونگے تو ان شہروں کی نمائندگی ہوگی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس ایم کیو ایم پاکستان نے 5سال میں دوسری مردم شماری کروا کر کارنامہ انجام دیا ہے اسی ایم کیو ایم نے سینکڑوں لاپتہ کارکنان کو بازیاب کروایا ہے لاکھوں ووٹرز جو مردم شماری می لاپتہ کردئے گئے تھے انکو بازیاب کروایا ہے ہم لاشیں اٹھا کر نہیں پرچم اٹھا کر منزل تک پہنچیں گے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہاکہ کراچی اب جزیہ نہیں دیگا اپنا حق لیکر رہیگاآج مہاجر قوم حکمرانوں کو نوٹس دے رہی ہے کہ آپ نے ہمیں کم گنا ہم لاپتہ قوم نہیں سب کو بتادیا۔

سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ جلسہ صرف ملیر ٹاؤن کا جلسہ ہے کرسیاں ختم ہوگئیں میری مائیں،بہنیں اور بزرگ فرش پر بیٹھے ہیں آج ملیر ٹاؤن نے فیصلہ دے دیا کہ ملیر ایم کیو ایم پاکستان کا ہے اور جو شمع آج روشن کی ہے ہر اس جگہ جائیگی جہاں ایم کیو ایم موجود ہے وہاں تک اس کی روشنی پہنچے گی۔سینئر ڈپٹی کنوینرڈاکٹر فاروق ستار نے پرہجوم جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایم کیو ایم پاکستان باقاعدہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہی ہے اور 29جلسوں میں سے آج پہلا جلسہ ہے ملیر والے جرت اور ہمت والے ہیں آج یہ پہلا جلسہ ہے اور جب آخری جلسہ ہوگا تو یہ بات ثابت ہوجائیگی کہ کراچی کے تمام ٹاؤنز کل بھی ایم کیو ایم پاکستان کے تھے اور آج بھی ہیں۔ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2018میں ایم کیو ایم پاکستان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اب ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ۔نسرین جلیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاگیردارانہ نظام اور سوچ کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ میں سے لوگ ایوانوں میں جائیں ہمارے درمیان ماضی کے دومیئرز موجود ہیں جس میں سید مصطفی کمال اور ڈاکٹر فارق ستار موجود ہیں اوراگر انکا کام نہ ہوتا تو نہ برج ہوتے نہ انڈر بائی پاسز ہوتے اور نہ سیوریج کا اچھا نظام ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: