جی ڈے اے کی وفد کی مقبول باقرسے ملاقات، تحفظات سے آگاہ کردیا

کراچی: نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے وفد نے ملاقات کی اورسندھ میں سرکاری سسٹم سے متعلق اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا۔

جی ڈی اے کے وفد میں سابق اسپیکرقومی اسمبلی ڈاکٹرفہمیدہ مرزا، سردار عبدالرحیم، عرفان اللہ مروت اور بیرسٹر حسنین مرزا شامل تھے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔

وفد نے انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی کے جیالے افسران کو ہٹانے سمیت اہم معاملات پر بات چیت کی اور جی ڈی اے وفد نے سانگھڑ اور خیرپور اضلاع کی حلقہ بندی پر تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔وفد نے مطالبہ کیا کہ الیکشن ہونے تک بلدیاتی کونسلز کو معطل کیا جائے۔

ترجمان جی ڈی اے کے مطابق مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کسانوں کو در پیش مسائل پر توجہ دلائی گئی، وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی گئی۔ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ صاف الیکشن ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، ہم سب جانتے ہیں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کیسے ہوئے، غیرجانبدار الیکشن کمیشن، غیرجانبدار افسران کا تقرر شفاف الیکشن کیلئے انتہائی ضروری ہے،سلیکشن سے زیادہ شفاف الیکشن ضروری ہیں، گورنر کے پاس الیکشن سے متعلق کوئی اختیارات نہیں ہیں، یہ کام صرف الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا ہے، بلدیاتی الیکشن میں آئین کی پامالی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے بارے میں الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق ایک قانون ہے، تو بلدیاتی نمائندوں سے متعلق بھی قانون واضح ہے، بلدیاتی نمائندوں کو اسی کام کے لئے لایا گیا ہے۔

جی ڈی اے کے رکن سردار عبدالرحیم نے کہا کہ نگران حکومت پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کا تسلسل ہے، ہم سمجھتے ہیں شفاف انتخابات کیلئے پورا نظام نیوٹرل ہونا چاہیے،ہم نے مہنگائی، بے روزگاری کے مسائل ان کے سامنے رکھے ہیں، ہمیں نگران وزیراعلیٰ کی ذات سے کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں سندھ کے جانبدارانہ نظام پر اعتراض ہے، ہماری گزارشات پر عملدرآمد نہ ہوا تو پھر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں: