آئی جی سندھ کی پولیس افسران کو دو روز کی وارننگ

کراچی : آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ نے سندھ بھر کے ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو کارکردگی بہتر کرنے کیلئے 2 روز کا الٹی میٹنگ دے دیا ۔ سینٹرل پولیس آفس میں گزشتہ روز مفرور و اشتہاری ملزمان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔

آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت دیگر افسران پر برہمی و ناراضی کا اظہار کیا ، اجلاس میں آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ 2دن کا وقت ہے پھر نہ کہنا،ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو بتادیا ہے ، عہدوں سے ہٹادوں پر شکوہ نہ کیجئے گا ، پیسوں کی بہت حرص و ہوس ہے تو میں 10 سے 15 لاکھ روپے بھیج دیا کروں گا ، کہاں سے اسمگلنگ کی لائن چل رہی ہے سب معلوم ہے ، جہاں یہ کام ہورہا ہے وہاں کے ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو فون کرکے آگاہ کردیا ہے ،

اشتہاری و مفرور پکڑے نہیں جاتے اور میٹنگ میں آکر باتیں کرتے ہیں ، کراچی کے 109 تھانوں کی کیا کررکردگی ہے ؟ اگر ایک تھانہ ایک اشتہاری و مفرور پکڑ لیتا تو یہاں بیٹھ کر ناکامی کا اعتراف نہ کرتے ،کراچی کے ایس ایچ اوز کیسے تعینات ہوئے ہیں سب جانتا ہوں ، آئی جی سندھ نے میٹنگ میں بیٹھے ایک افسر کو ہدایت کی سب کو شوکاز جاری کریں جو جرائم میں ملوث ہیں انہیں ہٹائیں ، اب بہت ہوگیا ۔

سینٹرل پولیس آفس میں اشتہاری و مفرور ملزمان کے حوالے سے گزشتہ روز رات 8 بجے میٹنگ شروع ہوئی اور یہ میٹنگ 9 بجے ختم ہوگئی ۔

آئی جی سندھ راجہ رفعت مختیار اس میٹنگ کی سربراہی کررہے تھے اور ایڈیشنل آئی جیز ،ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز اس میٹنگ میں موجود تھے ، پچھلی میٹنگ میں آئی جی سندھ نے پولیس کو ہدایت کی کہ مفرور و اشتہاری ملزمان کو گرفتار کریں اس فہرست میں لاڑکانہ رینج سرفہرست ہے جہاں 31126 مفرور ہیں ،21606 اشتہاری ہیں ،9520 روپوش ملزم ہیں جن کی گرفتاری میں لاڑکانہ رینج پولیس ناکام ہے ۔

کراچی کا حال بھی کچھ بہتر نہیں ہے مگر سندھ پولیس کے افسران کام کرنے کو تیار نہیں ہیں جنہوں نے اپنے کمانڈر کی ہدایت کو بھی نظر انداز کردیا جس کے باعث میٹنگ میں آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ کا موڈ انتہائی خراب تھا ۔میٹنگ میں ایڈیشنل آئی جی ، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز منہ نیچے کرکے بیٹھے تھے جبکہ آئی جی سندھ نے کراچی کے ایک افسر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’مجھے معلوم ہے ایس ایچ اوز کیسے لگے ہیں ‘‘ ذرائع بتاتے ہیں کہ آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ کے پاس کچھ اداروں کی رپورٹ موجود ہے جس میں ناموں کے ساتھ تفصیلی فہرست موجود ہے رپورٹ میں قمبر ، جیکب آباد،گھوٹکی سمیت دیگر اضلاع کی صورتحال کا پوسٹ مارٹم کیا جاچکا ہے وہی لسٹ سندھ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، اگر اسمگلنگ کی پالیسی نہیں ہے تو پھر پولیس اسمگلنگ کی روک تھام میں ناکام ہے اب تو صورتحال یہ ہے کہ ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز سخت پالیسی کا نام دے کر قیمتیں بڑھا رہے ہیں اس کی رپورٹ بھی آئی جی سندھ کو تیار کرنی چاہئے ، فی الحال کراچی کیلئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی آنے کے باوجود شہر قائد میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 100 موٹر سائیکلیں چوری ہوچکی ہیں اور 18چھین لی گئی ہیں یہی نہیں بلکہ پانچ گاڑیاں چوری ، تین قتل اور 17 افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: