غربت و غذائی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان کا نمبر 102 !

غربت و غذائی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان کا نمبر 102 !

لندن: غربت ،غذائی قلت کے شکار ممالک میں بھارت کا 111، پاکستان 102 ، بنگلہ دیش کا 81واں نمبرہے۔

موزمبیق، افغانستان، ہیٹی، گنی بسائوبھی غذائی قلت کا شکارہیں،جدید جنگی ہتھیاروں کے حصول پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے بھارت میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

آئرلینڈ اور جرمنی کی غیر سرکاری تنظیم کنسرن ورلڈ وائیڈ کی عالمی ہنگر غذائی قلت سے متعلق رپورٹ کے مطابق بھارت میں بھوکے رہنے والوں سطح تشویش ناک ہے۔

بھارت میں شہری غذائی قلت کا شکا رہیں ۔ 2023 کے گلوبل ہنگر انڈیکس(جی ایچ آئی) میں بھارت 125 ممالک میں سے 111 ویں مقام پر ہے، 2022 کے مقابلے میں 2023 میں بھارت گلوبل ہنگر انڈیکس چار پوائنٹ نےچے چلا گیا ہے ۔ بھارت اب گلوبل ہنگر انڈیکس میں موزمبیق، افغانستان، ہیٹی، گنی بساو، لائبیریا، سیرا لیون، چاڈ، نائجر، لیسوتھو، جمہوری جمہوریہ کانگو، یمن، مڈغاسکر، وسطی افریقی جمہوریہ، جنوبی سوڈان، برونڈی کی سطح پر آگیا ہے۔

غذائی قلت سے متعلق عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں 28.7 کے اسکور کے ساتھ بھارت میں بھوکے رہنے والوں سطح تشویش ناک ہے۔ خیال رہے کہ 2022 میں بھارت 125 ممالک میں 107 ویں مقام پر تھا۔ای ایچ آئی کی رپورٹ میں پاکستان 102 ویں، بنگلہ دیش 81 ویں، نیپال 69 ویں اور سری لنکا 60 ویں نمبر پر ہے۔ جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ ایسے خطے ہیں جہاں بھوک کی بلند ترین سطح پائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں غذائیت کی کمی کی شرح 16.6 فیصد ہے اور پانچ سال سے کم عمر کی اموات کی شرح 3.1 فیصد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 15 سے 24 سال کی خواتین میں خون کی کمی کی شرح 58.1 فیصد ہے،اگر کسی ملک میں 15 فیصد سے زیادہ بچے کمزور ہوں تو، تو اسے رپورٹ میں انتہائی اعلی درجے کی تشویش کے طور دیکھا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: