نقیب اللہ قتل کیس : تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کا حکم

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کے تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔

پیر کو نقیب قتل کیس سماعت کے موقع پر مقدمہ کا ضمنی چالان جمع نہیں کرایا جس پرتفتیشی افسر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقدمہ کا چالان پراسیکیوٹر جنرل آفس میں جمع کرایا ہے چالان کی اسکروٹنی کے بعد عدالت میں پیش کردیا جائے گا ،لہذا وقت دیا جائے عدالت نے تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔

ملزمان کے وکیل کی جانب سےنقیب قتل کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دائر کی ضیل حکام نے گرفتار ملزمان سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد ، راجا شمیم اور محسن عباس کو پیش کیا مقدمہ کے مرکزی ملزم سابق پولیس افسر شعیب شوٹر ضمانت پر رہا ہےعدالت کی جیل حکام کو گرفتار ملزمان کو بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی عدالت نے کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

نقیب قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران و اہلکاروں کو بری کیا جاچکا ہے مقدمہ میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے ساتوں مفرور ملزمان نے انسداد دہشت گردی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد خود کو سرینڈر کیا تھا مقدمہ میں ایک ملزم شعیب شوٹر ضمانت جبکہ امان اللہ مروت سمیت 6 ملزمان گرفتار ہیں نقیب اللہ کو جنوری 2018 میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دائر کی ضیل حکام نے گرفتار ملزمان سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد ، راجا شمیم اور محسن عباس کو پیش کیا مقدمہ کے مرکزی ملزم سابق پولیس افسر شعیب شوٹر ضمانت پر رہا ہےعدالت کی جیل حکام کو گرفتار ملزمان کو بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی عدالت نے کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: