کراچی؛ کھلے مین ہول میں گرنیوالے بھانجے کو بچاتے ہوئے ماموں جاں بحق

کراچی: شہرقائد میں بلدیاتی اداروں کی مجرمانہ غفلت کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا،کورنگی گلزارکالونی میں کھلے مین ہول میں گر کرایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق شہرقائد میں کھلے مین ہول میں گرکر شہریوں کے جاں بحق ہونے کے واقعات تھم نہ سکے، گزشتہ روزکورنگی صنعتی ایریا تھانےکےعلاقے کورنگی گلزارکالونی میں کھلے مین ہول میں گرکرایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

جاں بحق ہونےو الے شخص کی لاش متوفی شخص کے اہلخانہ اورعلاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مین ہول سے نکال لی اوراسپتال منتقل کی جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔

ایس ایچ اوکورنگی صنعتی ایریاعبید اللہ کے مطابق متوفی شخص کی شناخت 32 سالہ سخی داد ولد ولی داد کے نام سے کی گئی، متوفی شخص کا 7 سالہ بھانجا مین ہول میں گرگیا تھا جسے بچاتے ہوئے اس نے اپنی جان دے دی جبکہ بھانجے کوبچایا لیا گیا۔

ادھرعلاقہ مکینوں نے بتایا کہ2 بچے گھرسے دودھ لینے کے لیے دکان جارہے تھے، ایک بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا جس کی اطلاع دوسرے بچے نے گھرپر آکردی جس پران کا ماموں سخی داد اپنے بھانجے کو بچانے کے لیے موقع پرپہنچا اورکھلے مین ہول میں اتر گیا۔

سخی داد بھانجے کو بچاتے ہوئے مین ہول میں ہی بے ہوش ہوگیا ، اسی دوران قریب موجود چوکیداروں نے شورمچانا شروع کردیا اورایک چوکیدارہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے مین ہول اترا تو وہ بھی بےہوش ہوگیا جس کےبعد تندورپرکام کرنے والے ایک مزدور کوبلایا گیا اوراس مزدور نے منہ پر کپڑا باندھ کر سب کو کمر میں رسا باندھ کرباہر نکالا۔

بچے سمیت سب کو باہر نکالنے کے بعد وہ مزدور بھی باہر آکر بے ہوش ہو گیا، بچے کا ماموں دوران علاج انتقال کرگیا جبکہ بچے کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

علاقہ مکینوں نے حکومت سے اپیل ہے کہ بچے کی جان بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہم کب تک اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے، کبھی ملیرتو کبھی قائد آباد میں واقعات رونما ہوتے ہیں۔

مکینوں نے کہا کہ میئر کراچی کہتے ہیں کہ وہ گٹر کے ڈھکن لگا رہے ہیں، یو سی چیئرمین سے پوچھو تو یوسی چیئرمین کا کہنا ہے کہ ان کا پانچ لاکھ روپےکا بجٹ ہے سوا چار لاکھ روپے تنخواہوں میں چلے جاتے ہیں ، 75 ہزار روپے میں کیسے گٹرکے ڈھکن لگائیں۔

علاقہ مکینوں نے نگران وزیراعلی سندھ سے درخواست ہے کہ وہ اسپتال میں زیرعلاج بچے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: