بلوچ موسیقار خاتون نے ساز’’چنگ‘‘ کی ترویج کا بیڑا اٹھا لیا

کراچی: بدین سے تعلق رکھنے والی ناظم آباد کی رہائشی بلوچ موسیقار خاتون نے زمانہ قدیم کے چنگ فن کواپنے شوق سے زندہ رکھاہواہے۔

شاہین گل کا کہنا ہے کہ اس زوال پذیر ساز کو اگر مزید لوگوں کو سکھانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دور میں چنگ قصہ پارینہ بن کر میوزیم کی زینت بن جائے گا، سروساز کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسان کی تاریخ ہے چنگ زمانہ قدیم کے ایجاد کردہ سازوں میں شمارہوتاہے مگراس کا رواج آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے لیکن بدین سے تعلق رکھنے والی ناظم آباد کی رہائشی ستائس سالہ شاہین گل نے ہزاروں سال پرانے ساز کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔

سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والی موسیقارشاہین گل کے نانا چنگ بجایاکرتے تھے، انھیں دیکھ کرشاہین گل کوشوق ہوا اورانہوں نے بغیرکسی استاد کے 13 سال کی عمرمیں چنگ پرمہارت حاصل کرلی،شاہین گل نے کڈنی ہل پارک میںذرائع نیوزسے خصوصی گفتگو میں کہا کہ چنگ سے ان کو پیار ہے وہ خود موٹر سائیکل پر سفر طے کر کے پارک یا کھی فضا میں چنگ بجاتی ہیں ۔

انھوں نے سفید اور نیلے رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور پگ بھی پہن رکھی تھی۔ شاہین نے کہا پگ عموماً مرد پہنتے ہیں مگر میں روایتی نہیں ہوں مجھے اس قسم کا لباس پہن کر روحانیت حاصل ہوتی ہے شاہین گل نے کہا لوہے کی دھات سے بنے چنگ کو اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی کے ناخنوں یا انگلیوں کا استعمال کرتے ہوئے تاروں پر دباؤ ڈال کر کھیلا جاتا ہے گلا، دانت ، سانس اور انگلی کی مدد سے rhthym بنتی ہے۔

ایک خصوصیت والی تار چنگ کو منفرد آواز دیتی ہے جس سے گونج ہوتی ہے اور دھن بنتی ہے نانا بجاتے تھے جب نانا کا دانت ٹوٹ گیا اس کے ساتھ میرے خواب بھی ٹوٹ گئے میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پھر خود شروع کیا، چنگ کو ایک ہزار ناموں سے پہچانا جاتا ہے، شاہین گل نے کہا 13 سال کی عمر میں جب پہلی بار چنگ بجایا تو خاندان والوں نے مخالفت کی اور کہا یہ عورتوں کا ساز نہیں ہے مگر میں نے اپنے شوق کو برقرار رکھا اور خود سیکھا۔

چنگ جہاں سندھی ثقافت کی پہچان ہے وہیں اسے روحانی سازبھی کہا جاتاہے،موہن جو دڑو کھنڈرات سے بھی اس کی نشانیاں پائی گئیں تھیں، شاہین نے کہا موسیقی کا قدیم آلہ چنگ زیادہ تراندرون سندھ میرپور خاص ، تھر پارکر ، مٹھی اور عمر کوٹ میں دھاتی تار سے کاریگر بناتے ہیں، شاہین گل کا ماننا تھا کہ یہ روحانی سازڈپریشن سے بھی نجات دلاتاہے ۔

انھوں نے کہا لوگوں کو لگتا ہے چنگ بزرگوں کا ساز ہے جبکہ یہ روحانی ہے، شاہین گل نے کہا چنگ کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پربجاکراپنے فن کا مظاہرہ کرنا میرا خواب ہے میں چنگ کو دوبارہ زندہ کروں تا کہ نئی نسلوں کو چنگ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی ملے اور مستقبل میں چنگ کے بھی پرفارمر بنیں اور عالمی سطح پر بجائیں ۔

اس زوال پذیر ساز کو اگر مزید لوگوں کو سکھانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دور میں چنگ قصہ پارینہ بن کر میوزیم کی زینت بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: