وزیراعلیٰ کا سرکاری و نجی شعبے میں پانچ فیصد معذور کوٹے پرعملدرآمد کا حکم

کراچی : نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ خصوصی (معذور) افراد (PWDs) کیلئے سرکاری و نجی شعبے میں ملازمت کے کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ وہ اپنی کفالت خود کما سکیں۔

یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں معذور افراد کو بااختیار بنانے کے محکمے (DEPD) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم، چیئرمین پی اینڈ ڈی شکیل منگنیجو، سیکرٹری خزانہ کاظم جتوئی، سیکرٹری ڈی ای پی ٹی طحہٰ فاروقی اور دیگر نے شرکت کی۔

سیکریٹری DEPD طحہٰ فاروقی نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ کراچی اور حیدرآباد میں چار سینٹر فار آٹزم ری ہیبلیٹیشن ٹریننگ سندھ (C-ARTS) چلا رہا ہے اور صوبے کے تمام چھ ڈویژنوں میں 66 اسپیشل ایجوکیشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز (SERC) چلا رہا ہے جہاں 4190 بچے زیر تعلیم ہیں۔

اندراج شدہ 4190 بچوں میں سے 2923 مرد اور 1242 خواتین ہیں جبکہ تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کی تعداد 794 ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ہر ایک طالب علم کی والدہ کے اکاؤنٹ میں ہر ماہ 2000 روپے وظیفہ جمع کرایا جاتا ہے۔تمام بچوں کو انکی دہلیز سے اسکول اور واپس گھر تک پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے اور اسکول کے وقت کے دوران تمام بچوں کو دوپہر کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کو تعلیم اور بحالی کے ساتھ ساتھ مختلف تجارتوں میں پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

سیکرٹری DEPD طحہٰ فاروقی نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اب تک 208 بچوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جا چکی ہے۔

اس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی خصوصی افراد کیلئے پانچ فیصد کوٹہ مختص کر رکھا ہے اور اس کوٹہ کو صحیح معنوں میں عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ تمام سرکاری محکموں کو ضروری ہدایات جاری کریں اور محکمہ محنت کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم نے کہا کہ DEPDنے معذوری کی تشخیص کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جس کے تحت ملازمت کے کوٹے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2021 سے اب تک ڈی ای پی ڈی نے 34488 سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ سندھ حکومت کے تمام محکمے خصوصی افراد کیلئے ملازمت میں پانچ فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کر رہے ہیں اوراب تک تمام اضلاع میں 1134 معذور افراد (PWDs) کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مانٹیسوری اور پرائمری اسکولوں کی طرف سے سست سیکھنے والوں/ کم آٹسٹک کو داخلے سے انکار ایک بڑا مسئلہ رہا جسکے نتیجے میں DEPD کے بحالی مراکز پر مصنوعی بوجھ پڑا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ‘انکلوزیو ایجوکیشن’ تین/چار سال کی عمر میں بچوں کو اسکول میں داخلے کا موقع دیے بغیر ‘خصوصی’ یا ‘آٹسٹک’ کے طور پر غلط لیبل لگانے کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔

انہوں نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلے پر محکمہ اسکول ایجوکیشن سے بات کریں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ DEPD کے پاس کوٹڑی میں سپیشل ایجوکیشن ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی (SETTAS) ہے جو 2018 میں قائم کی گئی ۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں پہلی اسپیشل ایجوکیشن ٹیئرز ٹریننگ اکیڈمی قائم کرکے دیگر صوبوں سے سبقت لے گیا ہے۔ سکریٹری DEPD نے کہا کہ SETTAS نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 10 تربیتی پروگرام مکمل کیے ہیں اور دو بینائی و سماعت سے محروم، پیشہ ورانہ تھراپی، اسپیچ تھراپی اور آٹسٹک اور ADSD کے شعبوں میں جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: