عباسی شہید میں بچوں کا اسپتال اور ضلع وسطی میں یونیورسٹی بنائیں گے، میئر کراچی

کراچی : عباسی شہید میں بچوں کا اسپتال اور ضلع وسطی میں یونیورسٹی بنائیں گے۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عباسی شہید اسپتال مین بچوں کا اسپتال بنانے اور ضلع وسطی میں کراچی میٹروپولیٹن یونیوسٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدارا عوامی خدمت کے معاملے پر سیاسی مخالفین آڑے نہ آئیں۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی عباسی شہید اسپتال میں کراچی انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ اینڈ ہیلتھ بنائے گی، عباسی شہید اسپتال کے حوالے سے مینجمنٹ بورڈ بنایا جائے گا جس میں شہر کی ممتاز شخصیات شامل ہوں گی، ضلع وسطی میں جلد کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی بنانے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس شہر میں لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے آج ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، خدارا سیاست کریں لیکن منفی سیاست نہ کریں،آنے والا سال ہمارے لئے اچھا ثابت ہوگا، انشاء اللہ چار سالوں میں عباسی شہید اسپتال کے اور ملازمین کے حالات اچھے ہوں گے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کے لوگوں کی خدمت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، میئر اور ڈپٹی میئر کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ بدھ کے روز عباسی شہید اسپتال میں نو تعمیر شدہ چلڈرن وارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، میئر کراچی کے ترجمان کرم اللہ وقاصی، پیپلز پارٹی ضلع وسطی کے صدرمسرور احسن، جنرل سیکرٹری دل محمد، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ندیم آصف، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ عباسی شہید اسپتال ڈاکٹر نسیم اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال آ کر خوشی ہو رہی ہے، میری آج یہاں موجودگی کا باعث پروفیسر ڈاکٹر سلطان مصطفی ہیں، اس وارڈ کا نام وی جے وارڈ رکھا جائے جو ڈاکٹر سلطان کی والدہ کے نام کی شارٹ فارم ہے، اس بات کو سراہنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے عباسی شہید اسپتال کے شعبہ اطفال کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہیروز کی خدمات کو سراہنا چاہیے، اس معاشرے میں عبدالستار ایدھی جیسے بہت لوگ موجود ہیں، ان کی خدمات سے استفادے کی ضرورت ہے، 192بستروں پر مشتمل چلڈرن وارڈ بچوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرے گا،گائنی وارڈ اور ٹراما سینٹر کی تزئین و آرائش بھی جلد مکمل کر لیں گے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر نیت اچھی ہو تو اس شہر میں کام کیا جاسکتا ہے، آنے والے دنوں میں کے ایم سی کے زیر انتظام طبی اداروں کے حالات مختلف ہوں گے، چاہتا ہوں کہ میڈیا آئے اس طرح کے ایونٹس کو کور کرے اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں کہیں نہ کہیں احساس کی کمی ہے، ہمارے ہاں کام کوئی اور کرتا ہے کریڈٹ کوئی اور لیتا ہے، 75 سالوں سے جس طرح یہ ملک چلا ہے اسی وجہ سے آج ہم اس حال میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم عباسی شہید اسپتال کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی اسپتال کو اپنے ماتحت کرنا چاہتی ہے، صوبائی حکومت اسپتال نہ چلائے جبکہ ہم صرف اس اسپتال کی بہتری اور شہریوں کا مفاد چاہتے ہیں۔

کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا سالانہ خرچ ایک اعشاریہ ایک ارب روپے ہے، ہم کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو بھی قومی ادارہ برائے امراض قلب کی طرح چلانا چاہتے ہیں مگر اس پر بھی لوگ سیاست کرتے ہیں، کالی بھیڑیں ہر ادارے میں موجود ہیں یہی لوگ کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: