پاکستان کی ترقی کیلئے ملکی مصنوعات کا فروغ ناگزیر ہے ، حافظ نعیم

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ملکی مصنوعات کا فروغ ناگزیر ہے۔

سامراجی و صیہونی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ہم غزہ نہیں جاسکتے لیکن یہاں رہتے ہوئے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ان کی معیشت کو تباہ کرسکتے ہیں ۔

فلسطینی مسلمان اسرائیلیوں کے سامنے ڈٹ گئے ہیں اور فلسطین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے ،ہم بھی ملک میں موجود طبقہ اشرافیہ اور مغربی ساہوکاروں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ان کو بھاگنے پر مجبور کردیں گے ۔

حماس کے مجاہدین کی مزاحمت کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی ہے جس میں حماس نے اپنی کئی چیزیں منوائی ہیں ،حماس کی مزاحمت اور جدوجہد سے دنیا دوحصوں حکمران اور عوام میں تقسیم ہوگئی ہے،7اکتوبر کاواقعہ کی بدولت دنیا کی تاریخ بدل رہی ہے ۔

مسلمانوں کے پاس قیادت کرنے کا وقت ہے ،پوری دنیا کے مسلمان پروڈکٹ دیکھکر خریدرہے ہیں کہیں اس سے صیہونی اسرائیل کو فائدہ تو نہیں پہنچ رہا ،آج کا یہ سیمینار فلسطنیوں کی قربانیوں کا صلہ ہے ، اگر آج پیش رفت نہیں کی تو اس کا جواب دینا ہوگا۔

پاکستان بزنس فورم یہاں آنے والے تاجر و صنعت کاروں کے ساتھ مل کر خدمت کے جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں ۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی اور پاکستان بزنس فورم کے تحت ملک میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ اور حوصلہ افزائی کے حوالے سے سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار سے پاکستان بزنس فورم کراچی کے صدر سہیل عزیز ،کراچی چیمبر آف کامرس کے سنووائٹ کے شکیل ،چیئرمین پی ایچ ایم اے انجینئر بابر خان ،سابق ایم ڈی ایس ایس جی و ایف اینڈ ایم کے ڈائریکٹر سید فرخ ،کراچی چیمبر آف کامرس کے ممبر اور یونائیٹڈ کنگ کے تحسین شیخ ،پاکستان فوڈ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے وحید احمد ،معروف صنعت کار ناظم ایف حاجی ودیگر نے اسرائیلی مصنوعات کے متبادل کے طور پر پاکستانی مصنوعات سے آگاہی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

معروف بزنس مین قاضی صدر الدین نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔اس موقع پر ملکی فوڈ کے ذیشان نے حافظ نعیم الرحمن ، سہیل عزیز اور بابر خان کو شیلڈز پیش کیں ۔سیمینار میں پاکستانی مصنوعات پر مشتمل وال بنائی گئی تھی جس میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیری کی مصنوعات ، آئس کریم ،برتن دھونے اور صفائی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات ،صابن ،کھانے پکانے کے تیل، کنفیکشنری، بسکٹ ،جوس ہینڈ واش لوشن ، پانی کی بوتلیں ، چاکلیٹ وغیرہ و دیگر مصنوعات بھی نمایاں کی گئیں تھیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ پاکستانی عوام اسرائیل اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ،چیمبرز اپنا ایک کلسٹر بنائیں اور مل کر کام کریں اگر کسی بھی پروڈکٹ کو آگے بڑھانے میں حکومت رکاوٹ بنے گی تو جماعت اسلامی بھرپورآپ کا ساتھ دے گی ۔سہیل عزیز نے کہاکہ پاکستان بزنس فورم انٹر نیشنل فورم کا ایک چیپٹر ہے۔

انٹر نیشنل فورم کا چیپٹر 1997 میں اسی لیے بنایا گیا تھا تاکہ دیگر ممالک سے رابطے میں رہا جائے۔ 42 ممالک میں پاکستان بزنس فورم کے چیپٹر موجود ہیں ۔

پاکستان میں بزنس فورم کی سرگرمی یہی ہے کہ جو لوگ پاکستان میں بزنس کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے جماعت اسلامی اور پاکستان بزنس فورم مل کر کام کریں گے۔

مقامی طور پر بنائے گئے تمام برانڈز موجود ہیں اور ہم کوشش کریں گے کہ اسے دوسرے ممالک میں بھی ایکسپورٹ کریں ۔سنووائٹ کے چیئرمین شکیل نے کہاکہ “پاکستانی بنیں اور پاکستانی مصنوعات خریدیں “ہمیں سلوگن بنانے کی ضرورت ہے۔

ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ اچھے سے اچھے پروڈیکٹ بنائیں اور ایمانداری سے فروخت کریں ۔انجینئر بابر خان نے کہاکہ پاکستانی شہریوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بڑی تعداد میں بائیکاٹ کیا ہے۔

تقریبا ایسی اشیاءکا بائیکاٹ کیا گیا جو گھریلو استعمال کے لیے تھی۔ حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا کہ لمبے وقت کے لیے پاکستانی پروڈکٹ کو متعارف کروایا جائے۔ ایسی مصنوعات متعارف کروایا جائے جس سے گھریلو ضروریات پوری ہوسکیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریننگ پروگرامز منعقد کریں اور مقامی مصنوعات کو متعارف کرائیں ۔ کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان بزنس فورم کے تحت معاشرے میں موجود بزنس کرنے والوں کو ٹریننگ کروائیں گے۔ سید فرخ نے کہاکہ ایس جی ایچ میں 26 سال کام کیا۔ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے کے بعد میں پاکستانی کمپنی بنائی جس کا نام ایف اینڈ ایم رکھا۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں آپ بزنس میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔

ہم نے پاکستان میں موجود تمام ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کیا۔کسی بھی کاروبار میں ضروری ہے کہ آپ کام کو ایمانداری کے ساتھ کریں ۔ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی برانڈز بناسکتے ہیں ہمیں باہر کی پروڈکٹ کی ضرورت نہیں ۔معروف بزنس مینتحسین شیخ نے کہاکہ ہمیں اپنے برانڈ کو پہچاننا چاہئے۔

کراچی سے پاکستان اور انٹر نیشنل میں اپنے برانڈز کو رجسٹرڈ کروایا۔ 50 ممالک میں ہمارے برانڈز رجسٹرڈ ہیں ۔ ہمیں اپنے برانڈ کو پہچاننا ہے،ہمیں اپنے ملک کی ایکسپورٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ہم نے اپنے برانڈز کو قومی و بین الاقوامی طور پر متعارف کروایا ہے۔وحید احمد نے کہاکہ آج ہم پاکستانی مصنوعات کو متعارف کروانے کے لیے جمع ہوئے ہیں ۔ ہمیں خود سوچنے کی ضرورت ہے کہ عوام پاکستانی برانڈز کو کیوں قبول نہیں کرتے۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں جس طرح کوالٹی کو بہتر بناتے ہیں ہمیں بھی اپنی برانڈز کی کوالٹی کو بہتر کرنا ہوگا۔ فوڈز اینڈ ویجیٹیبل کی ایکسپورٹ 30 ممالک کی جاتی ہے۔

ہمیں اپنی مصنوعات پر بھروسہ ہونا چاہیے کہ اس سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتی۔ ہمیں مصنوعات کے معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے 75 سال میں ملک میں کوئی ایسی انڈسٹری نہیں بنائی جو دنیا میں ایکسپورٹ کرتی ہو.

اپنا تبصرہ بھیجیں: