سٹی کالج میں غنڈہ عناصر کی جانب سے اساتذہ پر تشدد، چھینا جھپٹی

شہر قائد میں قائم سرکاری کالجز میں غنڈہ عناصر کی جانب سے طالب علموں کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ اب اساتذہ اور پروفیسرز تک پہنچ گیا ہے۔

سٹی کالج میں غنڈہ عناصر کی جانب سے اساتذہ پر تشدد کیا گیا، جس پر سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن یونٹ گورنمنٹ سٹی کالج کراچی کی اپیل پر تدریسی و غیر تدریسی عملے نے کالج کے باہر اساتذہ کے عدم تحفظ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

اس مظاہرے میں اساتذہ اور کالج سٹاف نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے، گورنمنٹ سٹی کالج کراچی میں بیرونی عناصر کی مداخلت اور اساتذہ پر تشدد کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس کراچی ریجن کے سینیئر نائب صدر پروفیسر عارف یونس جنرل سیکرٹری عامر الحق یونٹ صدر محمد نعمان ارشد، سکنٹوا کے وائس چیئرمین صفدر اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصے سے گورنمنٹ سٹی کالج میں بیرونی عناصر داخل ہو کر طلبہ سے زبردستی موبائل اور نقدی چھینتے ہیں جبکہ کلاسز کو بھی متاثر کرتے ہیں، اساتذہ کی روکنے پر ان سے بدتمیزی نازیبا الفاظ کا استعمال اور صورت حال لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔

کراچی کے کالجز میں بیرونی غنڈہ عناصر کا راج، اساتذہ اور طلبا پر تشدد

مقررین نے بتایا کہ ایک روز قبل بیرونی عناصر نے اساتذہ کے ساتھ ہاتھا پائی کی جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ پہلا کالج نہیں ہے اس سے پہلے گورنمنٹ جناح کالج، پاکستان شپ اونرز گورنمنٹ کالج، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج گلزار ہجری سمیت کئی دیگر کالجز میں اس قسم کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

سپلا نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ سندھ اسمبلی سے تحفظ اساتذہ یا تکریم اساتذہ بل پاس کروا کر اساتذہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

سپلا کے رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ پرتشدد واقعات اساتذہ کی توہین بند نہیں ہوئی تو پھر ہم احتجاج کا دائرہ صوبہ سندھ تک بڑھا دیں گے۔ سپلا کے رہنماؤں نے یہ مطالبہ کیا کہ فوری طور پر گورنمنٹ سٹی بوائز کالج کریم آباد کراچی کے اساتذہ کو تحفظ فراہم کیا جائے یہاں پر پولیس یا رینجرز کی چوکی قائم کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: