پرانے فانوس کو مزارقائد درمیانی مقام پر نصب کرنے کا فیصلہ

کراچی :بانی پاکستان کے مزار پر70 کی دہائی سے سن 2016کے وسط تک نصب 80 فٹ بلنداور2 ٹن وزنی پرانے فانوس کو مزارقائد کے سبزہ زاراورفواروں کے درمیانی مقام پر نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔

ماضی کی انجینئرنگ کا شاہکار فانوس چینی مسلمانوں(مسلم ایسوسی ایشن آف چائنا) کی جانب سے تحفے میں دیا گیاتھا ، پرانے فانوس کی نئی تنصیب کے بعد دلکش نظارے کے لیے شیشے کا ہال تیارکرایا جائیگا ۔

4 منزلہ دیدہ زیب فانوس کئی کلو سونے کے پانی،48 لائٹوں اور10ہزارجگمگاتے کرسٹل سے مزین ہے،عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے 17دسمبر2016کو ایک نیا فانوس تحفے میں دیا گیاتھا ، جس کو پرانے فانوس سے تبدیل کیا گیا، فانوس کی دوبارہ کھلے مقام پرتنصیب کے لیے 4رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

جوکام کی نگرانی کرے گی،سن 60کی دہائی میں بانی پاکستان کے مزارکی تعمیراتی کام کا آغازہوا ، معروف آرکٹیکٹ یحییٰ مرچنٹ کے ڈیزائن کردہ نقشے کے مطابق مزارکی تکمیل میں 10سال کا عرصہ لگا،31مئی 1966کو بابائے قوم کے مزارکا کام مکمل ہوا ، اگلے 4 سال سنگ مرمر کی تنصیب پر لگے۔

جس کے بعد 12 جون 1970کو مزارقائد کی تعمیرات مکمل ہوئی،تکمیل کے صرف ایک سال بعد چینی مسلمانوں (مسلم ایسوسی ایشن آف چائنا )کی جانب سے بانی پاکستان کے مزارکے لیے80فٹ اونچا اور4منزلوں پرمشتمل فانوس تحفے میں دیا۔

جو 2ٹن(2ہزارکلو )وزنی ہے، بانی پاکستان کے مزارکی طرز تعمیراور طرز آرائش کی طرح یہ فانوس بھی اس دورکا شاہکارکہلایا،کئی کلوگرام سونے کاپانی چڑھا پرانا فانوس 48لائٹس کے علاوہ ان گنت کرسٹل کی لڑیوں سے مزین ہے،پرانے فانوس کی تنصیب کے 45برس بعد عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے ایک دوسرا فانوس تحفے میں دیا گیا۔

جس کی تنصیب 17دسمبرسن 2016کو ہوئی،اس کے بعد اتارے جانے والے فانوس کی کسی اہم سرکاری عمارت میں تنصیب کے حوالے سے غوروخوض شروع ہوا،اس حوالے سے پریزیڈینٹ ہاؤس،پرائم منسٹرہاؤس کے علاوہ کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے جناح ٹرمینل ایئرپورٹ، نیشنل میوزیم(کراچی)سندھ اسمبلی سمیت کئی عمارتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پرانے فانوس کووہاں نصب کیا جائے مگراس غیرمعمولی کام کے آغازسے قبل کئی تیکنیکی وجوہات رکاوٹ بنیں،جس میں سرفہرست یہ کہ مذکورہ عمارتوں میں سے کسی بھی عمارت کے چھت کی اونچائی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ وہاں 80فٹ بلند فانوس کو نصب کیا جاسکے۔

جس کے بعد یہ معاملہ 7سال تک التوا کا شکار رہا وفاقی وزیربرائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن / چیئرمین قائد اعظم مزار مینجمینٹ بورڈ جمال شاہ کی زیر صدارت 96ویں بورڈ میٹنگ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ مزارقائد کے گنبد میں نصب پرانے فانوس کو بانی پاکستان کے مزارکے سبزہ زاراورفواروں کے درمیان ہی کسی مقام کا تعین کرکے نصب کیا جائے گا۔

اس کام کی نگرانی اورتمام ترتیکنیکی معاملات کی نگرانی کرنے والی کمیٹی میں وائس چانسلراین ڈی ای یونیورسٹی سروش حشمت لودھی،فہیم اقبال صدیقی،انعام اللہ شیخ اور عبدالعلیم شیخ ریذیڈنٹ انجینئر مزار قائد شامل ہیں۔

مزارقائد کے ریذیڈنٹ انجینئرعبدالعلیم شیخ کے مطابق پرانا فانوس جس کوماضی کی انجینئرنگ کا ایک شاہکارکہاجاسکتا ہے،اس کی تنصیب کا کام بھی اتنا ہی پیچیدہ ہے،تنصیب کے کام کو شروع کرنے یا اس کی جگہ کے تعین کے لیے ہرزاویے کو بارہا دیکھا گیا۔

اس میں کئی سرکاری عمارتوں کے بارے میں غورکیاگیا،مگرتقریبا ہرجگہ چھت سے زمین تک کم بلندی آڑے آئی۔۔

تاہم اب چونکہ اس کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی،تویہ فیصلہ ہوا کہ فانوس کے لمبائی اورچوڑائی کے عین مطابق شیشے کا ایسا کمرہ یا ہال تعمیرکر ایاجائے گا ، جس میں مزارقائد کے گنبد سے اتارے جانے والے پرانے فانوس کونصب کیا جائے گا۔

ان کا کہناہے کہ بانی پاکستان کی تعمیر کے ابتدائی دورسے جڑے اس فانوس کوقائد سے منسوب دیگرنوادرات کی طرح ایک محفوظ شکل مل جائے گی بلکہ یہ بانی پاکستان کے مزارپرآنے والوں کے لیے بھی دلچسپی کاباعث ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: