حافظ نعیم کا میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا عندیہ

جماعت اسلامی کے امیر کراچی حافظ نعیم نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا عندیہ دے دیا۔

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے ہاؤس کو اسی طرح غیر جمہوری طریقوں سے چلانے اور اکثریت نہ ہونے کے باوجوداپنی مرضی سے سرکاری قرار داروں کو منظور اور اپوزیشن کی قرار دادوں کو نامنظور کرنے کی کوشش کی تو جماعت اسلامی اس غیر جمہوری اور غیر قانونی رویے کے خلاف مزاحمت کرے گی اور بات قبضہ میئر کے خلاف عدم اعتماد تک بھی جا ئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک طرف ساتھ چلنے اور مل کر کام کرنے کی بات کرتی ہے اور خود ہی کونسل میں غیر جمہوری اقدامات اور رویہ اختیار کر کے ماحول کو خراب کرتی ہے۔ ہم نے گزشہ اجلاس کے بعد پیش کش کی تھی کہ کونسل کے اجلاس میں بجٹ لائیں، 246یوسیز کے بجٹ میں اضافہ کریں ہم تعاون کریں گے لیکن آج بھی انہوں نے سرکاری بینچوں کو مطلوبہ تعداد میں حمایت نہ ہونے کے باوجود حکومتی قرار داد پر رائے شماری کے بغیر ہی اپنی قرار داد کو منظور کر لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے ذریعے میونسپل چارجز کی وصولی کو مسترد کرتی ہے یہ معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت نے اس پر حکم امتناع دیا ہوا ہے۔ کے الیکٹرک خود ایک نادہندہ ادارہ ہے اور قبضہ میئر اس کے ذریعے کے ایم سی کا ریونیو بڑھانے کی کوشش کر کے اس کراچی دشمن ادارے کو نوازنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی 15سال تک حکومت کرتی رہی ہے لیکن اس نے کراچی کو اس حق نہیں دیا۔ پی ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اب سندھ میں اس کی حکومت نہیں آنے والی اسی لیے اس نے ہر یوسی کو 3کروڑ روپے دینے کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈال دی ہے ورنہ جب یہ حکومت میں تھی تب اس نے یوسیز کو یہ فنڈز کیوں جاری نہیں کیے؟

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ کے ایم سی سے ہر یوسی کو 3کروڑ روپے دیئے جائیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سٹی کونسل کے اجلاس میں کراچی کے عوام کی حقیقی ترجمانی کی ہے، ہم کراچی کے عوام کا حق لے کر رہیں گے، غیر جمہوری ہتھکنڈوں اور وڈیرہ شاہی و جاگیردارانہ سوچ کو ہر گز نہیں چلنے دیں گے۔

حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سٹی کونسل میں بھی خوفزدہ ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ میئر شپ کس طرح حاصل کی، کس طرح 192والے کو ہروایا گیا ور 173والے کو جتوایا گیا۔ ہم میئر کو آج بھی قبضہ میئر کہتے ہیں، قبضہ میئر کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے کام کر رہے ہیں وقت آنے پر عدم اعتماد بھی لائی جائے گی۔


نوٹ : آپ ذرائع نیوز سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کیلیے ہمارا واٹس ایپ چینل لنک پر کلک کر کے جوائن کرسکتے ہیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں: