پنجاب میں اغوا کے بعد بچوں کا لرزہ خیز قتل، ملزم نے ذبح کر کے گوشت پکایا اور مزار پر تقسیم کیا

’ جمعہ 8 دسمبر کو بلال آیا اور تینوں بچوں کو معمول کے مطابق سیر کے نام پر اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا کر چلا گیا، اُس کے بعد سے بچے نہیں ملے، پھر علی حسن نے بتایا کہ اُس نے تین سالہ عبداللہ اور حفظہ کو ذبح کر کے گوشت پکا کر خود کھایا اور مزار پر بھی بانٹ دیا‘۔

یہ الفاظ ہیں پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ کے تھانہ خان گڑھ سے 8 دسمبر کو رشتے دار کے ہاتھوں اغوا ہونے والے بچے کے، جسے پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر بازیاب کرایا ہے۔

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں ایک شخص نے تین کمسن بہن بھائیوں کو اغوا کرکے دو کو قتل کر کے اُن کا گوشت پکا کر کھا لیا۔

مظفر گڑھ کے تھانہ خان گڑھ میں 8 دسمبر کو بلال نامی پڑوسی و رشتے دار نے تین بچوں جن میں دو کم عمر بہن، بھائی بھی شامل تھے انہیں ساتھ لے گیا اور پھر اغوا کر کے قتل کردیا تھا۔

’پولیس نے اغوا کا مقدمہ نو دسمبر کو درج کرنے کے بعد روایتی انداز سے تفتیش کی، ورنہ میرے بچے آج زندہ ہوتے‘۔ یہ الفاظ ہیں روتے بلکتے اُس باپ کے جس کے کمسن بچوں کو بلال نامی رشتے دار نے اغوا کے بعد لرزہ خیز انداز سے قتل کیا اور پھر گوشت پکا کر کھا گیا۔

پولیس نے بلال کی نشاندہی پر تیسرے بچے کو بے ہوشی کی حالت میں بازیاب کرا کے اسپتال منتقل کیا، جہاں اُس نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ بلال نے دو بھائیوں کو ذبح کر کے گوشت خود کھایا اور باقی دربار پر جاکر لوگوں میں تقسیم کردیا۔

بازیاب ہونے والے سات سالہ علی حسن نے بتایا کہ ’بلال جمعے کے روز ہمیں بہانے سے موٹر سائیکل پر بیٹھا کر لے گیا تھا، جہاں چمرو والی میں اُس نے عبداللہ (تین سالہ) کو بح کر کے قتل کیا اور پھر ہفتے کے روز ڈیڑھ سالہ حفظہ کو قتل کیا، وہ دونوں چیخ رہے تھے اور رو رہے تھے مگر بلال نے زمین پر لیٹا کر ان کی گردن پر چھری پھیری، جس کے بعد خون بہنے لگا اور پھر اُن کی آوازیں بھی بند ہوگئیں‘۔

علی حسن نے پولیس کو بتایا کہ بلال نے دونوں بچوں کو ذبح کر کے انکا گوشت پکوایا اور دربار میں تقسیم کرنے کے علاوہ اسے ہوٹل پر بھی دیا۔

دوسری جانب مغوی بچوں کے والد فیاض نے کہا کہ بلال ہمارا رشتے دار ہے جو بچوں کو آئے روز ساتھ لے جاتا تھا، اُس نے میرے ساتھ ظلم کیا اور بچوں کو ذبحہ کر کے گوشت پکا کر نہ صرف کھایا بلکہ تقسیم بھی کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے بعد بچوں کی بازیابی کیلیے اقدامات کیے گئے تاہم والد نے پولیس کے دعوے کی تردید کردی ہے۔

والد کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلال کو گرفتار کرنے کے باوجود پولیس اُس سے ابھی تک کچھ اگلوا نہیں سکی ہے۔ پولیس کے مطابق علی حسن کے ہوش میں آنے کے بعد اُسی کی نشاندہی پر دو بچوں کی باقیات ملیں۔

اُدھر پولیس یہ بھی دعویٰ کررہی ہے کہ گرفتارملزم بلال نے دوران تفتیش ابھی تک کوئی لفظ نہیں بولا اور نہ ہی وہ کسی قسم کا تعاون کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: