سرکاری کالجز کے پرنسپلز اور پروفیسرز جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے رویے پر سخت نالاں

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسیشن کے زیرِ اہتمام جامعہ کراچی سے الحاق شدہ سرکاری کالجز کے پرنسپلز کا ہنگامی اجلاس گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج گلستان جوہر میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ساٹھ سے زائد پرنسپلز نے براہِ راست جبکہ اکیس پرنسپلز نے ورچوئل شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی شہر کی ڈگری کالجز کے پرنسپلز ، جامعہ کراچی کی انتظامیہ اور بالخصوص شیخ الجامعہ کے ناروا سلوک پر پھٹ پڑے ، پرنسپلز نے متفقہ طور پر کہا کہ اگر جامعہ کراچی کی انتظامیہ سمیت شیخ الجامعہ نے اپنا رویہ ٹھیک نہیں کیا تو سیکریٹری کالج ایجوکیشن ہمیں دیگر یونیورسٹی سے الحاق کی اجازت دیں ۔

اس غیر معمولی اجلاس میں سپلا کے مرکزی صدر منور عباس، عصمت جہاں، رسول قاضی،محمد عدیل خواجہ، حسن میربحر، نہال اختر ، احمد علی خان، مقبول میمن، کنول مجتبیٰ سمیت مختلف کالجز کے پرنسپلز پروفیسرندیم حیدر، پروفیسرشاہدہ کلہوڑو، پروفیسرقاضی ارشد حسین،پروفیسر نور احمد سومرو، پروفیسر نعیم خالد، پروفیسر مقصود میمن، پروفیسر ڈاکٹر نوید رب، پروفیسر عذرا منور فاروقی، پروفیسر ریحانہ میمن، پروفیسر ناصر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر ارجنداس، پروفیسرڈاکٹر شفیق رند، پروفیسرڈاکٹر عبدالباری انڈھڑ شریک تھے۔

اس کے علاوہ پروفیسر مصطفیٰ کمال، پروفیسر علی راز شر، پروفیسر منصور علی شاہانی، پروفیسر نیلم مشتاق، پروفیسر شیریں مسعود، پروفیسر عذرا بیگم، پروفیسر یاسمین میرانی، پروفیسر زاہد گل، پروفیسرماجدہ ترین، پروفیسر علی شیر گھانگھرو، پروفیسر حمیرہ حسن، پروفیسر عبدالخالق فاروقی، پروفیسر رمضان سومرو، پروفیسررفعت زہرہ، پروفیسر مظہر الاسلام، پروفیسر ثنااللہ، پروفیسر فرزانہ خان، پروفیسر سہیل قاسم، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر لالہ وحید، پروفیسربشریٰ فاروقی، پروفیسر فرزانہ منگنیجو، پروفیسر آغا منور، پروفیسر شاہد سلیم، پروفیسر بھیم راج، پروفیسر منظور فاطمہ، پروفیسر بلقیس فاطمہ، پروفیسر اسما ، پروفیسر عقیل احمد، پروفیسر نور افشاں، پروفیسر فوزیہ امداد، پروفیسر ڈاکٹر مہ جبیں، پروفیسر ثمین دردانہ، پروفیسر مشکور حسین، پروفیسر امین ناریجو، پروفیسر ماجدہ ناصر و دیگر نے بھی شرکت کی۔

شرکا نے سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس اور ان کی ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس کے آخر میں سپلا کے مرکزی صدر نے اپنے خطاب میں شرکائے اجلاس کا اعتماد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی انتظامیہ کا ڈگری کالجزکے اساتذہ اور یہاں کے طلبہ کے ساتھ رویہ انتہائی نامناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ الجامعہ اپنے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ جامعہ کا ستائیس فیصد ریونیو ڈگری کالجز سے وصول ہوتا ہے  مگر اس کے باوجود ڈگری کالجز کے طلبہ کے داخلہ سمیت امتحانات کا کوئی شیڈول نہیں ہے ، جب ان کی مرضی ہوتی ہے داخلہ اور امتحانات کی تاریخ دے دیتے ہیں، کھیلوں کے انعقاد کا تو کوئی اتا پتہ ہی نہیں ہے۔

اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرادادوں کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مقبول باقر جو کہ جامعہ کراچی کے چانسلربھی ہیں سے مطالبہ کیا کہ وہ شیخ الجامعہ، جامعہ کراچی سے الحاق شدہ سرکاری کالجز، ان کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے متعصبانہ رویہ کا نوٹس لیں۔ سینڈیکیٹ کی ملحقہ کالجز کے پرنسپلز کے لیے مخصوص اکلوتی نشست کو جامعہ کراچی سے ہی ریٹائرڈ اپنی دوست اور ایک چھوٹے سے پرائیویٹ ادارے کی پرنسپل کے لیے نکالے گئے نوٹیفکیشن کو فوری واپس لیں اور سینڈیکیٹ کی نشست کے لیے محکمہ کالج ایجوکیشن کے ذریعہ گورنمنٹ کالج کے کسی بھی گریڈ بیس یا انیس کے سینئر پرنسپل کا نوٹیفکیشن نکالا جائے۔

ایک اور قرار دار میں کہا گیا کہ ڈگری کالجز کے طلبا و طالبات کے داخلہ، امتحانات اور اسپورٹس کے منعقدکروانے کے حوالے سے بھی اکیڈمک کلنڈر جاری کیا جائے۔ سینٹ اور اکیڈمک کونسل کے انتخابات ایک ہی روز منعقد کروائے جائیں۔ کالج اساتذہ کے ۲۰۱۸ سے تا حال بقایاجات جس کی رقم ایک کروڑ سے زائد بنتی ہے فوری ادا کی جائے۔

ڈگری کالجز کے طلبا کے بھی امتحانی مراکز بتدریج ڈگری کالجز میں منتقل کیے جائیں۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے سینڈیکیٹ کی رکنیت والا متنازعہ فیصلہ واپس نہیں لیا اور ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو پھر گرلز کالجز میں بننے والے امتحانی مراکز سے معذرت کی جائے گی اور کالج اساتذہ امتحانی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

اس کے ساتھ ہی سیکریٹری کالج ایجوکیشن سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ اگر جامعہ کراچی انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے تو پھر تمام کالجز کو جامعہ کراچی کے علاوہ کسی اور جامعہ سے الحاق کی اجازت دی جائے۔ اجلاس میں سنیٹ اور اکیڈمک کونسل کے انتخابات میں متفقہ امیدوار لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سپلا کراچی ریجن کے نائب صدر پروفیسر محمد عدیل خواجہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: