کرغستان میں پاکستانی طلبا پر مسلح جتھوں کے حملے، تین شہادتوں کی اطلاعات، ایک کی تصدیق

بشکیک: کرغستان میں مقامی افراد کی جانب سے پاکستانی طلبا کے ہاسٹل پر حملے اور متعدد پاکستانیوں کو زخمی کردیا گیا جبکہ تین شہادتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کرغستان میں تین روز قبل مصری اور کرغی طالب علموں کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوئی جو ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی تھی۔

مصری طالب علموں کے ساتھ مبینہ طور پر کچھ پاکستانیوں کے شامل ہونے کیوجہ سے مقامی افراد نے جمعے کی شام پاکستانی طالب علموں کے ہاسٹلز پر جتھوں کی صورت میں حملے کیے اور دروازے توڑ کر کمروں میں داخل ہوکر انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

مشتعل جتھوں نے سڑک پر چلنے والے طالب علموں پر بھی تشدد کیا جس کے نتیجے میں میڈیکل کا طالب علم ڈاکٹر اسامہ شہید ہوگیا، اس کے علاوہ دو مزید طالب علموں کی تشدد کیوجہ سے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

بشکیک میں موجود طالب علموں نے بتایا کہ ڈنڈا بردار اور چھریوں، چاقوؤں سے لیس جتھے کے افراد ہاسٹلز کے دروازے توڑ کر کمروں میں داخل ہورہے ہیں جبکہ انکی جانب سے پاکستانی طالبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

بشکیک میں اس وقت دسہزار سے زائد پاکستانی طالب علم میڈیکل سمیت دیگر علوم کی مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان حملوں کے بعد سب ہی خوفزدہ ہیں۔

بشکیک میں موجود ایک طالب علم عارف نے بتایا کہ ہم نے پولیس کو بھی مطلع کیا مگر وہ کارروائی کے بجائے وہاں سے بھاگ رہی ہے جبکہ اس بربریت کو چار گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے پاکستانی سفارت خانے رابطے کی کوشش کی تو وہاں کسی نے فون نہیں اٹھایا اور جب وہاں طلبا کو بھیجا تو سفارت خانے میں تالے پڑے ہوئے تھے۔

کرغستان میں پیش آنے والے واقعات کے بعد پاکستانیوں نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی طلبا کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

دوسری جانب وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ صورتحال سے مکمل واقف ہے اور اس حوالے سے کوششیں شروع کردی گئی ہیں، صبح ہنگامی بنیادوں پر کرغستان کی حکومت سے اعلی سطح پر رابطہ کیا جائے گا۔

نوٹ: انٹرنیٹ پر اس حوالے سے ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں، جس کو حساسیت اور پرتشدد ہونے کی وجہ سے خبر میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: