بڑی خوشخبری، سندھ حکومت کا 100 یونٹس تک مفت بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ

سندھ کے وزیر برائے توانائی اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سید ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 100 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے پر غور کررہی ہے جبکہ کے الیکٹرک سے طے پایا ہے کہ 200 یونٹ تک بجلی کے بل والے علاقوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔

کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاق کو سولر پر کسی قسم کے ٹیکس پر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے موقف سے آگاہ کردیا، سولر پر کسی قسم کا ٹیکس نامناسب ہوگا اور پیپلز پارٹی اس کی مزاحمت کرے گی جبکہ سولر پر ٹیکس کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے منتخب سینیٹرز اور اراکین قومی اسمبلی نے پارلیمان میں بھی اپنے تحفظات پیش کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں سولر پارکس کے ذریعے ابتدائی طور پر 100یونٹس مفت مہیا کریں گے، کے الیکٹرک نے کراچی کی گنجان آبادیوں میں کرنٹ بلوں کی ادائیگی کی صورت میں کنکشن منقطع نہ کرنے اور مکمل ریکوری والے علاقوں میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر عمل درآمد کے لیے سینئر وزیر سعید غنی کی سربراہی میں سیاسی جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں دو سولر پارکس تعمیر کیے جارہے ہیں جس کے لیے 600/600ایکڑ اراضی مخصوص کی گئی ہے جامشورو میں بھی ایک سولر پارک تعمیر کیا جائے گا پچاس پچاس میگا واٹ کے ان پاور پلانٹس سے کے الیکٹرک اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ذریعے نیشنل گرڈ میں بجلی شامل کی جائیگی اور اس کے بدلے غریب طبقے کو 100یونٹ تک بجلی مفت مہیا کی جائیگی۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جامشور میں بھی سولر پاور پارک بنایا جارہا ہے آئندہ بجٹ میں سکھر اور دیگر شہروں میں بھی جہاں اراضی ہوگی سولر پارک بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے تین سو یونٹ مفت دینے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے وفاق کی معاونت ضروری ہے تاہم سندھ حکومت نے اپنے طور پر 100یونٹس تک مفت دینے کا پروگرام بنایا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سولر پارکس سے بننے والی بجلی صنعتوں اور کمرشل صارفین کو موجودہ نرخ سے کم پر مہیا کریں گے، صنعت کاروں کو دعوت دی کہ سندھ حکومت کے ساتھ سولر انرجی منصوبوں پر مل کر کام کریں، بہت سی صنعتیں توانائی کے شعبے میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں سندھ کے پاس ملک کو درپیش توانائی کے بحران کا حل موجود ہے اور سندھ ہی پورے ملک میں سب سے کم قیمت بجلی تھر کے کوئلے سے مہیا کررہا ہے جس کی قیمت 5.50روپے فی یونٹ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تھر کے دوسرے پروجیکٹ 15روپے یونٹ، ساہیوال کا پراجیکٹ اس سے کہیں زیادہ قیمت پر بجلی مہیا کرتا ہے۔ تھر میں مزید تین بلاکس میں منصوبے شروع ہوچکے ہیں اور 100پاور پلانٹس لگانے کی گنجائش ہے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ  کو وفاق سے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے منصفانہ حق نہیں مل رہا سندھ کو فیڈرل پی ایس ڈی پی سے چار سے پانچ فیصد بھی نہیں مل رہا چار پانچ فیصد بھی صرف ایلوکیشن ہوتی ہے ریلیز نہیں ہوتا دیگر صوبوں کو 35 فیصد سے 50 فیصد فنڈز رکھے اور ریلیز کیے جاتے ہیں

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت بجٹ کا بڑا حصہ کراچی پر لگاتی ہے کراچی پاکستان کا دل ہے پورے ملک کو چلاتا ہے وفاق پر سندھ کے کھربوں روپے بنتے ہیں بزنس کمیونٹی وفاق سے سندھ کے حق کی بات کرے۔ سندھ میں سڑکوں کی حالت بڑی خراب ہے ہائی ویز کے لیے 100 روپے کے بجٹ میں سے سندھ کو تین روپے بھی نہیں ملتے جبکہ دنیا میں موٹر وہے پورٹ سٹی سے شروع ہوتا ہے یہاں الٹا معاملہ ہے سپر ہائی وے بھی موٹر وہے نہیں ہے اسے موٹر وے کا نام دیا گیا۔

بجلی گیس سے متعلق مسائل کے حل اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سندھ حکومت اپنی زمہ داری پوری کریگی۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ 2 ہزار ایم ایم سی ایف گیس مہیا کرتا ہے ضرورت 1600 ایم۔ایم سی ایف ہے سندھ کو 800 ایم ایم سی ایف گیس یومیہ دی جاتی ہے پاکستان کے توانائی کے مسائل کا حل سندھ کے پاس ہے ونڈ انرجی سولر اور تھر کا پوٹینشل سندھ میں ہے تھر کول میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار کو ماضی میں بھگا دیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ حکومت کی سرمایہ کاری کی اس وقت انٹرنیشنل سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد تھر کے بلاکس میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہے۔

ایک سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ میں ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کی اونر شپ سندھ کی ہوگی ایس آئی ایف سی کو اوون کرتے ہیں  یہ ہمارا ادارہ ہے جو سندھ اور پاکستان کی ترقی کے لیے کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیدوں کی عزت رہتی ہے اللہ قائم۔و دائم رکھے، ہمارے سائیں مراد علی شاہ اچھا کام کر رہے ہیں مراد علی شاہ 2029 تک وزیر اعلی رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: