’جنرل مشرف کے بعد متبادل قیادت عشرت العباد کی صورت میں مل گئی‘

آل پاکستان مسلم لیگ کے سابق عہدیداران اور بقائے پاکستان پارٹی کے رہنماؤں نے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے سیاست میں واپسی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرف کے بعد عشرت العباد کی صورت میں متبادل قیادت ملی ہے۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بقاء پاکستان پارٹی کے رہنما کپٹن (ر) عمران غوری نے کہا کہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی وطن واپسی اور ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے کے دانشمندانہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے سابق گورنر سے رابطہ کرنے والوں کو وطن سے محبت کرنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ محب وطن  قیادت سے سابق گورنر سندھ کے سیاسی رابطے جاری ہیں اور ملک کو موجودہ افراتفری کی صورتحال میں عشرت العباد جیسی باصلاحیت لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔

عمران غوری کا کہنا تھا کہ  ڈاکٹر عشرت العباد خان نے جماعتی مفادات سے بالا تر ہوکر 14 برس تک ملک و قوم کی خدمت کی ہے ان کی وطن واپسی موجودہ سیاسی صورتحال میں تبدیلی کا مظہر بنے گی۔

کیپٹن  ریٹائرڈ عمران غوری نے کہاکہ  ڈاکٹر عشرت العباد نے گورنر کی حیثیت سے مسلسل 14 سال تک اس صوبہ کی ایسے حالات میں خدمت کی جب پاکستان کئی جانب سے بحرانوں کا شکار ملک دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں تھا یا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا اور اسکے بعد کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے کا معاملہ آیا تو عشرت العباد نے اپنا رول ملک وقوم کے مفاد میں ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ سابق گورنر سندھ کی شاہد خاقان عباسی ، شیر افضل مروت  سے ملاقات ہوئی اور سیاسی قیادت سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ہوسکتا ہے کہ عشرت العباد کوئی نئی جماعت تشکیل دیں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ عمران غوری نے کہا کہ میرا نظریہ ہے پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کو متعلقہ شعبوں میں تعینات کیا جائے تب ہی ملک بہتر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف کے بعد ہمارے پاس عشرت العباد متبادل لیڈر ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے، سابق گورنر سندھ کے وطن واپسی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اُن کا بھرپور استقبال بھی کریں گے۔

غوری کا کہنا تھا کہ مشرف صاحب کے بعد ہم نے لیڈر شپ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پارٹی ختم کردی تھی البتہ اب ڈاکٹر عشرت العباد کی قیادت میں ہم ایک بار پھر ملکی حالات اور بہتری کے لیے متحد ہورہے ہیں۔

بقائے پاکستان کے رہنما عبد القیوم نے کہاکہ اس وقت پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال  دیکھ کر ہر محب وطن پاکستانی شدید کرب میں مبتلا ہے، بحیثیت ایک محب وطن اس صورتحال میں خاموش رہنا کسی بھی طور پر وطن دوستی نہیں ہے اس لئے ہم تمام دوستوں نے مشترکہ و متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستان کی بقاء کیلئے اپنا مثبت کردار اپنی آخری سانس تک ادا کریں گے۔

اُن کا کہنا تھاک ہ ہمیں ایسے نوجوان کی ضرورت ہے جو ان حالات سے نمٹنے کیلئے کھڑا ہو، طلباء ڈگری کے بعد ملک چھوڑ کر جارہے ہیں ، پاکستان میں کچھ نہیں رہے گا  ڈاکٹر عشرت العباد کی آمد کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہونگے وہ اپنا کردار ادا کریں گے  ڈاکٹر صاحب کا بھرپور استقبال کریں گے۔

ایڈوکیٹ مشتاق اعوان نے کہاکہ ملک کے حالات اس قدر خراب نہیں تھے طلباء ماسٹرز کرکے منشیات چلاتے ہیں یا ٹیکسی چلاتے ہیں۔ سندھ میں بےروزگاری نے جنم لیا ہے ، بچوں کا آئندہ مستقبل کیا ہوگا مجھے کوئی مستقبل نہیں نظر آرہا ہے۔ہم ڈاکٹر عشرت العباد کے وطن واپس آکر ملک کی خدمت کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

سابق رکن سندھ اسمبلی نائلہ انعام نے کہاکہ ڈاکٹر عشرت العباد نے جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر مضبوط لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ سیاست اور ملکی خدمت شرافت ، ایمانداری اور سچائی کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہےڈاکٹر عشرت العباد خان نے ہمیشہ منفی سیاست سے گریز کیا اور ملکی وقار کو مقدم رکھا آج اس پولرائزیشن کی صورتحال میں جب ایک بار پھر ملک کو  پر خلوص اور با صلاحیت لیڈرشپ کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عشرت العباد نے ملک واپس آکر اپنا کردار ادا کرنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہےجسکا ہم تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: