ملک صحیح‌ کرنا ہے تو، یونیفارم نہیں کردار بدلیں

ہمارے یہاں سیاسی، سماجی اوردیگرفورمز پرسرکاری محکموں کی کارکردگی زیربحث آئے توحکومت اور سسٹم پر تنقید کے ساتھ الزمات کا ڈھیر لگتا چلاجاتا ہے اورہر وہ بات کی جاتی ہے جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ حکومتی سطح پر نیک نیتی کا مظاہرہ، ٹھوس اقدامات اور طریقہ ¿ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور خامیوں کو دور کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے، مگر شاید ہم ایک نکتہ نظر انداز کردیتے ہیں ا ور وہ ہے اخلاقی اقدارکی پاسداری اور روشن کردار، جو ایک فرد کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے ساتھ اجتماعی سطح پر سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔

 سرکاری محکموں کا عملہ قانون اور ضابطہ ¿ کار کے تحت اپنی ذمہ داریاں تو پوری کرتا نظر آتا ہے، مگر یہ سب کچھ خانہ پُری سے زیادہ نہیں اور مشینی انداز میں کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف ریاستی امور کے لیے موجود نظام میں کسی بھی محکمے کا عملہ خود کو وسائل اور اختیارکے استعمال میں آزاد اورعوام پر طاقت و جبر آزمانے کو اپنا سرکاری حق تصور کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں عوام اور اداروں میں فاصلہ پیدا ہوتاہے جس کے باعث بدظنی، بداعتمادی اور مسائل جنم لیتے ہیں۔

 آپ بھی اتفاق کریں گے کہ سرکاری ملازمین کی اکثریت کی جانب سے فرائض کی انجام دہی اور ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کسی قسم کے اخلاقی تقاضے اور کردار کی خوبی کا مظاہرہ شاید ہی کیا جاتا ہو اور یہی ہماری بدقسمتی ہے۔ ہمارے سیاستدان اورہنما ءضمیر، کردار کی بات کرنے اور روشن اقدار کو اپنانے پر زور دینے کے بجائے قوانین اور طریقہ ¿ کار سے اختلاف کرنے کے ساتھ اپنے مفاد میںبول کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نت نئے قوانین، ضابطے اور تبدیلیاں تو متعارف کرواتی ہے ، مگر سرکاری اداروں کے عملے کے اخلاقی رویئے اور ان کے کردار کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ البتہ شکایات اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتو دکھاوے کے لیے تبدیلیوں کے ساتھ معطلی، برطرفی،کسی معاملے کی تحقیقات ضرور کی جاتی ہے مگر اس کا نتیجہ ہم سب پہلے ہی جانتے ہیں۔

یوں توسب ہی اپنی تربیت اور بزرگوں کی نصیحتیں، درسگاہوں کا پڑھا سبق تو لوگ بھولے ہوئے ہیں ، مگر جب ہدایت و رہنمائی کا کوئی سلسلہ موجود ہو توافاقہ ہو سکتا ہے۔ جانے کب کس کی بات ، کون سی نصیحت دل میں اتر جائے ۔دیکھا جائے تو ہم مجموعی طور پر اخلاقی دائرے سے آزاد اور بے لگام ہیں، مگر سرکاری سطح پر خصوصا ایسے محکموں کے افسر اور اہلکاروں کی ذہنی و جسمانی تربیت کے ساتھ کردار سازی یا ان کے اخلاقی رویئے بہتر بنانے پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو امن و امان اور جرائم کی روک تھام پر مامور ہیں۔ جی ہاں، میں بات کررہی ہوں ڈسٹرکٹ اور ٹریفک پولیس کی۔

 میری نظر میں ان کی مسلسل تربیت نہایت اہم ہے اور ہم اسے ہمیشہ ہی نظر انداز کرتے ہیں۔پولیس میں دیانت، اخلاص، احترام، برداشت، تحمل اور اختیارات کے جائز استعمال کا شعور اجاگر کرنے کے ساتھ عوام دوستی کا جذبہ بیدار رکھنے کے لیے وقتا فوقتا کوششوں کے مثبت اثرات جلد یا بدیر ضرور نظر آئیں گے ۔ اب یہ بتا دوں کہ میری اس تحریر کامحرک کراچی کی اہم ترین سڑک شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور قوانین پر عمل کروانے کے لیے موجود اہلکاروں کے یونیفارم میں معمولی تبدیلیاں بنیں۔

 میں نے چند دنوں تک اسی سڑک پر سفر کے دوران ٹریفک کی روانی کی صورتحال دیکھی۔ کچھ لوگوں سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ ٹریفک اہلکاروں کی عادت اور مزاج ویسا ہی ہے بس یونیفارم بدلی ہے۔اہلکاروں کا رویہ مثالی بنانے کی کوئی کوشش اگر کی بھی گئی تو اس کا اثر عوام کو نظر نہیں آرہا۔ موٹر سائیکل سوار ہوں یا کھٹارا بسوںکے ڈرائیور سب کو غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے لے کر قانون کی سنگین خلاف ورزی کرنے تک ”قانون“ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چالان تو اپنی جگہ مگر کم از کم دو سوکا ”چلان“ اور سنگین خلاف ورزی پراس سے زیادہ کا ” چلان“ اب بھی کیا جارہا ہے۔ اسی طرح ٹریفک جام کا مسئلہ برقرار ہے۔

 منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہا ہے۔غلط پارکنگ کا سلسلہ جاری ہے اور دیگر تمام بے قاعدگیاں، غیر ذمہ داریاں برقرار ہیں۔دوسری طرف شہر بھر میں سڑکوں، فلائی اوورز، نالوں کی تعمیر کی وجہ سے بھی ٹریفک کی روانی میں خلل واقع ہورہا ہے، لیکن باشعور عوام جانتی ہے کہ یہ خرابی کی بنیادی وجہ نہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ اہلکاروں کی کیپ کا رنگ بدلنے اور مخصوص تعداد میں ان کی سڑکوں پر تعیناتی سے کیابہتری ہوئی ہے؟ اس کا جواب وہی لوگ دے سکتے ہیں جن کا یہ فیصلہ تھا۔ جو پالیسی ساز ہیں جو بااختیارہیں۔

ہمارے بے شمار مسائل کا حل دیانت اور اخلاص کے ساتھ فرائض انجام دینے میں ہے۔ ہمیں اپنا کردار اور رویہ بہتر بنانا ہو گا۔ وردی کالی ہو یا سفید، پولیس کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی انجام دہی میں دیانتداری اور اخلاص کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے حکومت باقاعدہ تربیت کا اہتمام کرے اوراسے جاری رکھے۔ عوام میں قوانین کی پاسداری کے لیے شعور اور آگہی مہم چلانے کے ساتھ سرکاری اہلکاروں کے لیے بھی ماہرین سے مدد لی جائے اور ایسے پروگرامز کا اہتمام کیا جائے تو اہم اور نمایاں تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

4 تبصرے “ملک صحیح‌ کرنا ہے تو، یونیفارم نہیں کردار بدلیں

  1. Hey! I could have sworn I’ve been to this blog before but after reading through some of the post I realized it’s new to me. Anyhow, I’m definitely happy I found it and I’ll be book-marking and checking back often!
    [url=https://twitter.com/kolobovavaclava]shawMt[/url]

  2. whoah this blog is excellent i love reading your articles. Keep up the good work! You know, a lot of people are hunting around for this information, you can aid them greatly.
    [url=https://twitter.com/miranjoan]alexandriaMt[/url]

اپنا تبصرہ بھیجیں