’’ بشریٰ زیدی ، جس نے کراچی کی تاریخ بدل دی ‘‘

کراچی کے سرسید گرلز کالج میں پڑھنے والی دو بہنوں کے حادثے نے ملکی سیاسی تاریخ میں انقلاب برپا کیا۔

یہ بات ہے ۱۵ اپریل 1986 بروز پیر کی کہ جب سرسید کالج کی چھٹی ہوئی تو دو بہنیں گھر جانے کے لیے کالج سے باہر نکلیں اور اسی دوران تیز رفتار بس نے اُن کی زندگی کا حاتمہ کیا۔

دونوں بہنیں سڑک پار کررہی تھیں کہ اچانک ریس لگانے والی منی بس ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوئی اور اُس نے دونوں بہنچوں کو روند ڈالا، بشریٰ زیدی جائے وقوع پر ہی دم توڑ گئیں تھیں جبکہ اُن کی بہن نجمہ زیدی زخمی تھیں جو بعد میں صحت یاب ہوئیں۔

بشریٰ زیدی کے لہو نے شہر میں انقلاب برپا کیا اور جامعہ کراچی کی ایک طلباء تنظیم اے پی ایم ایس او (آل پارٹیز مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) نے اس قتل کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اے پی ایم ایس او کے احتجاج میں جماعت اسلامی بھی شریک ہوئی اور انہوں نے اس کا سہرا لینے کی کوشش کی مگر اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور شرکاء نے انہیں ایسا کرنے سے روکا۔

بشریٰ زیدی کی 35ویں برسی کل گزر گئی ماسوائے چند لوگوں کے انہیں کسی نے خراج تحسین پیش نہیں کیا، ایم کیو ایم جس کی طلبہ تنظیم نے احتجاج کر کے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا وہاں پر بھی ہر سال کی طرح اس بار بھی خاموشی سے بشریٰ زیدی کی برسی کا دن گزار دیا گیا، تینوں یا چاروں دھڑوں کی طرف سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: