استقبالِ رمضان :‌ دنیا میں‌ ہونے والی منفرد روایات

اسلامی سال کے دسویں مہینے کو ماہ صیام یا ماہِ رمضان کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اپنی اپنی ملکی روایات کی روشنی میں اس کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام ہی ممالک میں بسنے والے فرزندان اسلام روزے رکھتے ہیں۔ آئیں ایک تصویری رپورٹ پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

مصر اور دیگر خلیجی ممالک میں میں توپ داغنے کی روایت ہے، سحر و افطار کے وقت یہاں کے شہریوں کو اسی کے ذریعے وقت سے آگاہ کیا جاتا ہے، قدیم روایت مملوک سلطان الظہیر سیف لادین کے دور میں شروع ہوئی۔

پاکستان

پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور ٹی وی شوز کے ساتھ ہوتا ہے، گراں فروش قیمتوں میں من مانا اضافہ کرتے ہیں، بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنیاں لوڈشیڈنگ کے اوقات بڑھا دیتی ہیں اسی وجہ سے سحر و افطار اندھیرے میں ہوتا ہے، ساتھ ہی رمضان کی خصوصی ٹرانسمیشن کا آغاز ہوتا ہے اور وہ لوگ دین کا درس دیتے نظر آتے ہیں جنہیں عام مہینوں میں لوگ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے۔ یہ تمام لوگ شوبز سے وابستہ ہوتے ہیں۔

ڈرم بجانا، بگل بجانا

یہ روایت ترکی کی ہے جہاں لوگ رمضان کے آغاز کا اعلان بگل بجا کر کرتے ہیں۔ مراکش میں ایک شخص یونیفارم پہن کر آتا ہے اور لوگوں کو بتاتا ہے کہ ماہِ صیام کا آغاز ہوچکا، بعد ازاں وہ سحر کے وقت لوگوں کو جگاتا بھی اسی طرح سے ہے۔

منادی کرنا (آوازیں لگانا یا اعلان کرنا)

جب ٹیکنالوجی ایجاد نہیں ہوئی تھی تو سب سے پہلے مسلمانوں کو منادی کے ذریعے ہی پیغام پہنچایا جاتا تھا، پہلے منادی کرنے والے حضرتِ بلال ؓ  تھے کیونکہ اُن کو یہ ذمہ داری نبی کریم ﷺ نے تفویض کی تھی۔

مساہراتی

مکہ المکرمہ میں مساہراتی کو زمزمی کہتے ہیں۔ وہ فانوس اٹھا کر شہر کے مختلف علاقوں کے چکر لگاتا ہے تاکہ اگر کوئی شخص آواز سے بیدار نہیں ہوتا تو وہ روشنی سے جاگ جائے۔

سوڈانی مساہراتی

سوڈان میں مساہراتی گلیوں کے چکر لگاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بچہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ان تمام افراد کی فہرست ہوتی ہے جن کو سحری کے لیے آواز دے کر اٹھانا مقصود ہوتا ہے۔

لالٹین لے کر گھومنا

مصر سمیت مختلف ممالک کے گاؤں دیہاتوں میں یہ رسم و روایت آج بھی زندہ ہے کہ وہاں سحر کے وقت ایک شخص ہاتھ میں لالٹین تھام کر نکلتا ہے اور ہر شخص کے گھر کے باہر کھڑا ہوکر اُس کا نام زور سے پکارتا ہے، بعد ازاں گلی کے نکڑ پر کھڑے ہوکر ڈھول کی تھاپ پر حمد پڑھتا ہے۔ ان افراد کو اگرچہ کوئی باقاعدہ تنخواہ نہیں ملتی لیکن ماہ رمضان کے اختتام پر لوگ انہیں مختلف تحائف دیتے ہیں۔

رمضان خمیے

سعودی عرب میں رمضان خیمے لگائے جاتے ہیں، اس اقدام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے غریب اور نادار روزے دار باعزت طریقے سے افطاری کرسکیں۔ یہ روایت روس میں بھی قائم ہے۔ ملک کی مفتی کونسل کی جانب سے ماسکو میں اجتماعی افطار کے لیے رمضان خیمہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

دیگر دلچسپ روایات

ان روایات کے علاوہ بھی رمضان میں مختلف ممالک میں کئی دیگر منفرد و دلچسپ روایات دیکھنے کو ملتی ہیں۔

سعودی عرب

سعودی عرب میں ایسی بہت سی روایات ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوئی ہیں یا ان پر دوسری ثقافتوں کا گہرا اثر ہے۔ لوگ گھروں پر فانوس یا بلب لگاتے ہیں، دکانوں پر بھی خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ رمضان المبارک کا جوش و ولولہ نظر آئے۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کے دوران کام کے اوقات کار کم کر دیے جاتے ہیں۔ یہاں رات بھر رمضان مارکیٹ کھلی رہتی ہے۔

ترکی

ترکی میں افطار کے وقت مساجد کی بتیاں روشن کر دی جاتی ہیں جو صبح سحری تک روشن رہتی ہیں۔

ایران

ایران میں افطاری کچھ مخصوص اشیاء سے کی جاتی ہے جن میں چائے، ایک خاص طرح کی روٹی جسے ’نون‘ کہا جاتا ہے، پنیر، مختلف قسم کی مٹھائیاں، کھجور اور حلوہ شامل ہے۔

ملائشیا

ملائشیا میں زیادہ تر روزہ دار نماز تراویح کے بعد رات کے کھانے ’مورے‘ سے لطف اندوز ہوتے ہیں جن میں روایتی پکوان اور گرم چائے شامل ہوتی ہے۔

ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو

ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو میں اگرچہ مسلمانوں کی آبادی صرف 6 فی صد ہے لیکن اس کے باوجود رمضان المبارک میں خاصا جوش و جذبہ دیکھنے میں آتا ہے اور مساجد میں افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔

مختلف خاندان مساجد، کمیونٹی سینٹرز یا مساجد میں روزہ افطار کروانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہر خاندان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران ایک بار روزہ ضرور افطار کروائے۔

دیگر تصاویر


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: