پشاور : پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش دھما کے سے پولیس اہلکاروں سمیت 32افراد شہید ، 150 کے قریب افراد زخمی جبکہ غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں دعو یٰ کیا جارہاہے کہ دھماکے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر فی الحال 32 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جن میں 12 کی شناخت ہوگئی ہے ۔
پولیس کے مطابق دھماکا پولیس لائنز کی مسجد کے اندر ظہر کی نماز کے دوران ہوا، زخمیوں میں بیشتر پولیس اہلکار ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ۔
دھماکے سے مسجد کی چھت گر گئی، کئی افراد ملبے تلے دب گئے، ملبے تلے دبے افراد مدد کیلئے آوازیں دیتے رہے۔تمام سپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،محکمہ صحت نے تمام اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور عملے کو الرٹ کردیا ، لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ نے شہریوں سے خون کے عطیات کی اپیل کی ہے،ترجمان کے مطابق عطیہ دینے کیلئے شہرہی ہسپتال انتظامیہ سے رجوع کریں۔
دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا، دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے۔سکیورٹی حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران خود کو دھماکے سے اڑایا، حملہ آور پہلی صف میں موجود تھا جبکہ پہلی اور دوسری صف میں کھڑے نمازی زیادہ متاثر ہیں۔
دھماکے کے بعد مسجد کے ایک حصے کی چھت گر گئی، پولیس لائنز کے داخلی راستے مکمل طور پر بند کردیئے گئے، ٹیمیں شواہد جمع کرنے میں مصروف ہیں۔پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہید 12افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔دھماکے میں امام مسجد صاحبزادہ نورالامین بھی شہید ہوگئے۔
انسپکٹر دوران شاہ خان، انسپکٹر ظاہر شاہ خان بھی شہدا میں شامل ہیں،ایک خاتون بھی شہدا میں شامل ہے۔30زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے بھاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔ترجمان ایچ ایم سی کے مطابق دھماکے کے 4زخمی حیات ا ٓباد میڈیکل کمپلیکس لائے گئے۔زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
زخمیوں کیلئے اسپتال میں تمام سہولیا ت اور عملہ موجود ہے۔کمشنر پشاور ریاض محمود کے مطابق دھماکے میں 32افراد شہید ہوئے۔زخمیوں ہونے والوں کی تعداد 150 ہے۔جدید سنسرز کے ذریعے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے۔عینی شاہد کے مطابق مسجد میں دھماکہ نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران ہوا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے پشاور پہنچ گئے ہیں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی اسپتال پہنچ کر عیادت بھی کی ۔
