Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
نصر اللہ گڈانی قتل، جرنلسٹ‌ پرٹیکشن کمیشن میدان میں‌ آگیا، اہم اقدام | زرائع نیوز

نصر اللہ گڈانی قتل، جرنلسٹ‌ پرٹیکشن کمیشن میدان میں‌ آگیا، اہم اقدام

سندھ کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز نے میرپور ماتھیلو کے صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو نئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

کمیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ نظر اکبر کی سربراہی میں ہوا جس میں کمیشن کے دیگر ارکان انسانی حقوق کمیشن کے پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان، سی پی این ای کے ڈاکٹر جبار خٹک اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر فہیم صدیقی اور سینئر صحافی مظہر عباس نے شرکت کی۔

اجلاس میں ڈاکٹر جبار خٹک نے نصراللہ گڈانی پر حملے اور اس کے بعد کی تفصیلات پر شرکا کو بریفنگ دی جس پر اجلاس میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ نصراللہ گڈانی پر حملے کے بعد بھی پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ان کی جان بچانے کیلئے وہ ضروری اقدامات نہیں کیے گئے جو کیے جانا چاہیے تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نصراللہ گڈانی کے ساتھ مئی 2023 میں بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناروا سلوک کیا گیا تھا اور انہیں ایم پی او کے تحت نظر بند کردیا گیا تھا اور بعد میں کمیشن کے نوٹس لینے پر کمیشن پر ہدایات پر رہا کیا گیا تھا۔

شہادت کا متمنی صحافی نصر اللہ گڈانی، ’بچے پڑوس سے کھانا مانگ کر گزارا کرتے ہیں‘

اجلاس میں سکھر ڈویژن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سکھر پولیس 8 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی تاحال جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری میں ناکام ہے اور مجموعی طور پر سکھر پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔

شرکا نے نصر اللہ گڈانی کے قتل پر ڈی آئی جی سکھر کی جانب سے قائم جے آئی ٹی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ میرپور ماتھیلو میں صحافتی ذمے داریوں کی ادائیگی کے دوران نصراللہ گڈانی سے ناراض ہونے والے صرف وہاں کے بااثر افراد ہی نہیں بلکہ پولیس اور انتظامیہ کے افراد بھی تھے جو قتل کی تحقیقات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

شرکا نے مطالبہ کیا کہ اس قتل کی تحقیقات سکھر ڈویژن سے باہر ہونی چاہئیں۔ کمیشن کے چیئرمین نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ نصراللہ گڈانی کے قتل کی تحقیقات کے دوران ہونے والی پیش رفت سے یومیہ بنیادوں ہپر کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔

اجلاس میںمیں کمیشن کی گھوٹکی میں فوکل پرسن محکمہ اطلاعات کی ڈپٹی ڈائریکٹر محترمہ رافعہ بانو کی کارکردگی کو سراہا گیا جنہوں نے اس واقعے کے بعد اسپتال جا کر تمام تفصیلات لیں اور کمیشن کو بھیجیں۔