
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر سنہ 1988 سے قائم تجارتی مرکز گل پلازہ آتشزدگی کے بعد مکمل تباہ ہوگیا جبکہ عمارت کو خستہ حال قرار دے دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر پھولوں میں لگنے والی دکان نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لیا اور اربوں روپے مالیت سمیت انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔
اس واقعے کے وقت میئر کراچی اور وزیراعلیٰ سندھ اسلام آباد میں تھے جو اگلے روز اتوار کو کراچی پہنچے، مراد علی شاہ تقریبا 20 گھنٹوں اور مرتضیٰ وہاب 23 گھنٹوں کے بعد وقوعہ پر پہنچے جہاں انہوں تاجروں اور عوام نے گھیر بھی لیا تھا۔
اتنظامیہ اور متاثرہ دکانداروں نے ایک بار پھر حکومت اور ریسکیو اداروں پر الزامات عائد کیے تاہم حکومت ان کو بے بنیاد قرار دے رہی ہے۔
آگ بجھانے کے دوران ناظم آباد برانچ کا ایک فائر فائٹر فرقان بھی جان کی بازی ہار گیا جس کا 4 ماہ کا بیٹا ہے۔
اس حادثے کے بعد جہاں حکومت پر الزامات عائد ہورہے ہیں وہیں مارکیٹ کی یونین کو بھی ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔
سب سے پہلا الزام یہ تھا کہ مارکیٹ میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات تھیں جبکہ ہنگامی اخراج کا راستہ بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ سارے معاملات ہوئے۔
مارکیٹ کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد ہم نے اپنے طور پر اقدامات کیے جب قابو نہ پاسکے تو پھر لائٹ بن کردی گئی۔
گل پلازہ کا ایس بی سی اے میں موجود نقشہ
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے مالک نے نقشے کے برخلاف 1200 دکانیں تعمیر کیں کیونکہ نقشے میں 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی جبکہ 179 دکانیں غیر قانونی تعمیر کی گئیں۔
ایس بی سی اے کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئیں، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا۔
ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ نقشےکے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت 3 منزلوں کی اجازت تھی، جس کے بعد سنہ 2003میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھا۔
`سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نقشےکے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی،179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں، راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں۔
ماہانہ یونین
دکانداروں کے مطابق گل پلازہ کی مارکیٹ ایسوسی ایشن ہر دکان سے ماہانہ 5,500 روپے وصول کرتی تھی، اس حساب سے 1200 دکانوں سے ہر ماہ 66 لاکھ اور سالانہ تقریباً 8 کروڑ روپے وصول ہوتے تھے۔
دکانداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ہم ہر ماہ باقاعدگی سے یونین کے پیسے ادا کرتے تھے تو پھر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
متاثرین نے اس سانحے کی ذمہ داری براہِ راست مارکیٹ ایسوسی ایشن پر عائد کی ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر کا مؤقف
ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے کہا کہ اس حادثے میں ہماری یونین کے فنانس سیکریٹری بھی پھنس گئے تھے جن سے رابطہ نہیں ہورہا۔
انہوں نے اپنے اوپر عائد ہونے والے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ نہ صرف بجلی بلوں کی ادائیگی کو یقینی بناتے تھے بلکہ سیکیورٹی انتظامات کو بھی یقنی بناتے تھے۔
ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چار دیواری کے اندر مارکیٹ ہونے کی وجہ سے یہاں دکانداروں نے تجاوزات قائم کی ہوئیں تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ کے اندر راہدار کی جگہ 6 فٹ ہے اور ہر دکاندار اپنی دکان سے ڈیڑھ فٹ آگے تک سامان لگاتا تھا، تو راستہ صرف 3 فٹ کا بچتا تھا۔
وینٹی لیشن سے متعلق انہوں نے بتایا کہ 46 پوائنٹس موجود ہیں جبکہ آمد و اخراج کے راستے بھی تقریباً 8 کے قریب تھے۔
