کراچی: لانڈھی کے علاقے شیر پاؤ کالونی کے مختلف مقامات پر ایک گروہ کی جانب سے چھوٹے بچوں کو مختصر وقت کے لیے اغوا کر کے اُن کی پشت (پیٹ) پر چھریوں کے وار کئے گئے جس سے اُن کی کمر اور پیٹ پر واضح ضربوں کے نشانات موجود ہیں۔
ذرائع نمائندے کو پولیس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کے مطابق کچھ افراد پکڑے گئے ہیں تا ہم ابھی تفتیش جاری ہے، حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا یہ قبیح حرکت انہی لوگوں نے کی۔
متعلقہ تھانہ حکام سے گزارش ہے کہ اس واقعے پر فی الفور ایکشن لیں اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، علاقہ عوام سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو اکیلے باہر نہ نکلنے دیں۔
بچوں پر تشدد کا معاملہ سامنے آنے پر آئی جی سندھ نے نوٹس لیا اور ایس ایس پی ملیر منیر شیخ سے رپورٹ طلب کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کا واقعہ ذاتی رنجش یا خاندانی دشمنی کا نہیں لگتا کیونکہ تینوں بچوں کا تعلق الگ الگ خاندانوں سے ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ واردات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں پر تشدد کسی نفسیاتی یا جنونی شخص کی طرف سے ہوسکتا ہے، فی الحال نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے جس میں اقدام قتل،تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی دفعات شامل ہوں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو نشہ آور انجیکشن لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسم پر موجود ضربیں کھاردار تار کی معلوم ہوتی ہیں۔
ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایس ایس پی سربراہی کی موجودگی میں پولیس کی بھاری نفری شیر پاؤ کالونی میں داخل ہوچکی اور سرچ آپریشن کیا جارہا ہے جس میں اب تک متعدد مشکوک افراد کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار بھی کیا گیا۔
