Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی، بچوں‌ کو اغوا اور جسم پر تشدد کرنے والا گروہ سرگرم، پولیس پریشان | زرائع نیوز

کراچی، بچوں‌ کو اغوا اور جسم پر تشدد کرنے والا گروہ سرگرم، پولیس پریشان

کراچی: لانڈھی کے علاقے شیر پاؤ کالونی کے مختلف مقامات پر ایک گروہ کی جانب سے چھوٹے بچوں کو مختصر وقت کے لیے اغوا کر کے اُن کی پشت (پیٹ) پر چھریوں کے وار کئے گئے جس سے اُن کی کمر اور پیٹ پر واضح ضربوں کے نشانات موجود ہیں۔

ذرائع نمائندے کو پولیس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کے مطابق کچھ افراد پکڑے گئے ہیں تا ہم ابھی تفتیش جاری ہے، حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا یہ قبیح حرکت انہی لوگوں نے کی۔

متعلقہ تھانہ حکام سے گزارش ہے کہ اس واقعے پر فی الفور ایکشن لیں اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، علاقہ عوام سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو اکیلے باہر نہ نکلنے دیں۔

بچوں پر تشدد کا معاملہ سامنے آنے پر آئی جی سندھ نے نوٹس لیا اور ایس ایس پی ملیر منیر شیخ سے رپورٹ طلب کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کا واقعہ ذاتی رنجش یا خاندانی دشمنی کا نہیں لگتا کیونکہ تینوں بچوں کا تعلق الگ الگ خاندانوں سے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ واردات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں پر تشدد کسی نفسیاتی یا جنونی شخص کی طرف سے ہوسکتا ہے، فی الحال نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے جس میں  اقدام قتل،تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی دفعات شامل ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو نشہ آور انجیکشن لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسم پر موجود ضربیں کھاردار تار کی معلوم ہوتی ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایس ایس پی سربراہی کی موجودگی میں پولیس کی بھاری نفری شیر پاؤ کالونی میں داخل ہوچکی اور سرچ آپریشن کیا جارہا ہے جس میں اب تک متعدد مشکوک افراد کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار بھی کیا گیا۔