Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عام انتخابات میں اپ سیٹ، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں ٹوٹ پھوٹ

عام انتخابات میں اپ سیٹ، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں ٹوٹ پھوٹ

کراچی: (رپوٹ: عمیر دبیر) عام انتخابات کے اپ سیٹ نتائج کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں بڑے پیمانے پر تھوڑ پھوڑ، عامر خان گروپ کی پالیسی کامیاب فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے بعد سیاست سے بھی مائنس، پی ایس پی قیادت اور رہنماؤں میں آپسی تنازعات بھی شدت اختیار کرگئے۔

عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے رہنما و کارکنان اپنے پارٹیوں کو خیر باد کہنے لگے اور انہوں نے تحریک انصاف کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف پاکستان اور پھر کراچی کی سب سے بڑی جماعت کے بن کر ابھری، شہر قائد کی سیاست میں پی ٹی آئی نے 12 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کر کے سب کو حیران کردیا۔

پی ٹی آئی نے وفاق میں حکومت بنانے کے لیے ایم کیو ایم کی مدد مانگی اور اُن سے حمایت حاصل کی، ذرائع کے مطابق متحدہ نے حمایت کے عوض تحریک انصاف سے تحریری معاہدہ بھی کیا اور چند شرائط ایسی رکھیں جن کی بنیاد پر وفاق میں متحدہ کے 6 اراکین اسمبلی عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کا ووٹ ڈالیں گے۔

https://zaraye.com/mqm-pakistan-aamir-khan-successful-plan/

ایم کیو ایم کے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پر قیادت اور کارکنان دونوں میں ہی تحفظات ہیں کیونکہ متحدہ کے نامزد امیداروں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کو ہی اپنا سب سے بڑا حریف مانتے ہوئے انتخابی مہم چلائی جس میں کراچی کو انتظامی یونٹ بنانے اور مردم شماری دوبارہ کروانے کا اعلان کیا تھا۔

متحدہ کے سابق کنونیئر ڈاکٹر فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے بعد اب پارلیمانی سیاست سے بھی باہر ہوگئے جبکہ انہیں بہادرآباد گروپ کی جانب سے مکمل مائنس بھی کردیا گیا، حکومت سازی کے لیے ہونے والی سیاسی جاعتوں سے مٹینگ میں متحدہ قیادت نے فاروق ستار کو نظر انداز کیا جس پر انہیں خود بھی شدید تحفظات ہیں۔

فاروق ستار کے قریبی ذرائع اس بات کا دعویٰ کررہے ہیں سابق کنونیئر آئندہ کچھ روز میں کینیڈا واپس چلے جائیں گے اور وہ اپنی بقیہ زندگی وہی پر گزاریں گے، ایم کیو ایم نے تحریک انصاف سے تحریری معاہدے کے علاوہ زبانی کلامی ایک وزارت مانگی اور یہ بھی شرط عائد کی کہ عمران خان کی حلقہ این اے 243 کی نشست چھوڑنے کے بعد پی ٹی آئی ضمنی انتخابات میں اپنا امیدوار میدان میں نہیں اتارے گی۔

https://zaraye.com/aamir-khan-takes-over-mqm-pakistan/

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کو وزارت پورٹ اینڈ شپنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ متحدہ کی جانب سے امین الحق کو وزیر نامزد کیے جانے کا امکان ہے علاوہ ازیں حلقہ این اے 243 کے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے فیصل سبزواری کو ٹکٹ دیا جائے گا اور جیت کے بعد وہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق مصطفیٰ کمال سمیت پی ایس پی کی اعلیٰ قیادت نے بھی واپسی کے ٹکٹ کٹوا لیے اور اہم رہنما منظر عام سے غائب ہوگئے، رضا ہارون بیرون ملک جبکہ انیس ایڈوکیٹ میر پور خاص چلے گئے اور مرکزی عہدیدار افتخار رندھاوا ، اشفاق منگی ، یوسف شہوانی سمیت دیگر لوگ بھی پی ایس پی سے دور بھاگ گئے۔

دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی لیبر ڈویژن کے مرکزی عہدیدار توقیر احمد نے بھی پی ایس پی کو خیر باد کہہ دیا اور انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ سوشل میڈیا ونگ کے مرکزی انچارج وزیر انصاری سمیت دیگر نے بھی 25 جولائی کے بعد سے علیحدگی اختیار کرلی۔