کراچی: ملیر سمیت شہر قائد کے دیہی علاقوں میں یرقان کی بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی جس کے باعث اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
مقامی حکومت یا شہری انتظامیہ یرقان کی بیماری پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں جبکہ میئر کراچی کے علم میں بھی تاحال یہ بات نہیں لائی گئی، گزشتہ روز ملیر کے علاقے میں رہائش پذیر پرائمری ٹیچر یرقان کے باعث فوت ہوئے جبکہ مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد یرقان کے مرض سے متاثر ہوچکے ہیں۔
ضلع ملیر سمیت کراچی کے دیہی علاقوں میں خطرناک حد تک موجود یرقان کے مرض تاحال کنٹرول نہیں ہو سکا ہے گذشتہ روز مزید ایک پرائمری استاد نور دین جوکھیو ولد امیدعلی جوکھیو یرقان میں مبتلا ہونے کے باعث غلام حسین جوکھیو گوٹھ میں فوت ہوگئے چند سال قبل یرقان کی بیماری پھلینے سے علاقہ معززین یونین کونسلوں کے چیئرمین سمیت چار سو زائد افراد اس بیماری میں مبتلا ہوکر فوت ہوچکے ہیں۔
شدید عوامی رد عمل کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے عارضی طور پر ابتدائی طبی سہولیات و علاج فراہم کیا لیکن مستقبل اور جدید بنیادوں پر طبی انتظامات نہ ہونے باعث ایک مرتبہ پھر لوگوں کی ہلاکتوں کا شروع ہوچکا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر سماجی تنظیم ھینڈزنے داؤ و دیگر اداروں کے تعاون سے ہنگامی بنیادوں پر یرقان تخصیص کے لئے مفت طبی کیمپ لگانے کا سلسلہ شروع کردیا۔
ھینڈزکے نمائندے علی بخش خاصخیلی کا کہنا ہے کہ درسانو چھنہ ،مراد میمن ،گڈاپ ،ابراہیم حیدری و دیگر علاقوں کیمپ لگانے گئے ہیں جن میں اب تک چار ہزار زائد لوگوں کا معائنہ کیا گیا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ یرقان کے مرض میں مبتلا ہونے کی تصدیق کے بعد ان کو چھہ ماہ کا کورس مفت فراہم کیا جا رہا ہے جس کی لاگت نوے ہزار بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقی دیگر علاقوں میں کیمپ لگانے کے بعد یرقان کے مرض میں مبتلا لوگوں کا باقاعدہ علاج شروع کیاجائے گا انہوں نے علاقے کے سیاسی و سماجی رہنماؤں اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ھینڈزکے ساتھ تعاون کرین تاکہ یرقان میں مبتلا لوگوں کی زیادی سے زیادہ نشاندہی ہو تاکہ ان کا بروقت علاج کرواکر انسانی زندگیاں بچائیں جا سکیں ۔
