بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے دعوے کے باوجود شہر کے متعدد علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا، واٹربورڈ نے ڈسٹرکٹ سینٹرل سمیت مختلف علاقوں میں 28ویں روزے سے ہی پانی کی فراہمی بند کردی تھی جس کی وجہ سے شہری مارے مارے پھرتے رہے، ہائی ڈینٹز پر پانی کی بلاتعطل فراہمی جاری رہی۔
بجلی کی پیداوار بڑھانے اور کرنے والی کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کرلیے، نماز عید سے قبل فراہمی بند، 100 فیصد ریکوری والے علاقے بھی متاثر رہے، پوش علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا نیا طریقہ تلاش کرلیا گیا۔
شہری بوندھ بوندھ کر ترسے تو کراچی میں بلدیاتی نمائندے بھی اپنے ذمہ داریوں سے غافل نظر آئے، شہر کچرے کا ڈھیر بن گیا، جگہ جگہ سے تعفن اور بدبو کی وجہ سے کراچی میں بیماریاں پھوٹ پڑیں، ہیضہ، بخار اور پیٹ کی متعدد بیماریوں سے متعدد لوگ متاثر ہوگئے۔
شدید گرمی کی وجہ سے شہریوں نے جب فیملیز کے ہمراہ گھروں سے باہر نکلنے کا پروگرام بنایا تو انہیں غیر مقامی اوباش نوجوانوں کا سامنا کرنا پڑا، فیملیز کے ساتھ جانے والی لڑکیوں سے بے لگام اوباش نوجوان چھیڑ چھاڑ کرتے رہے، طرح طرح کے گندے طعنے کسے گئے۔
شہریوں نے بے حال ہوکر اپنے ہی گھروں پر عید گزارنے کو فوقیت دی، دعوتوں میں جانے والے مہمانوں کو ٹریفک جام کی اذیت کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ایک گھنٹے کا سفر ڈھائی سے تین گھنٹوں میں طے ہوا۔
جب تک کراچی کے سر پر سربراہ اور اس شہر کو اون کرنے والی جماعت موجود تھی شہریوں کو کم از کم کچرے، پانی اور اوباش لڑکوں کی بدمعاشیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا کیونکہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں امید کا ایک گھر تھا جسے بند کر کے پہرے بیٹھا دیے گئے ہیں۔
