کچھ معصوم چہروں پہ صدیوں کی دانائی نقش رہتی ہے
فکر معاش سے بفکر مستقبل کی فکر چھلکتی ہے،
اوپر سے یہ زعم کے علم پر کمال انکو،
چھوٹی سی سوچ پر آنکھیں پتھرائی سی،
کاندھوں پر بوجھ سلیمانی سا،
میرے بھائیوں اور باجیوں آپ کب تک رہبر اور رہزن کا مقدمہ پیش خدمت کروگے؟ دل کو مفتی بنالو اپنے اور واپس اس خانقاہ کے پیر و کار بن جاؤ جس کے پیر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور عہد وفا کی قسمیں کھایا کرتے تھے, کیونکہ جس زندگی کے لئے تم جن سے بھیک مانگ رہے ہو وہ تو کبھی کسی کے نہیں ہوئے۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لو, پھولوں کا دکھاوا دے کر صرف سنگ ہی دیا کرتے ہیں یہ لوگ، تو سنو اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اور اپنے قائد کے بازو بنو کیونکہ باپ تو پھر باپ ہوتا ہے، غصہ کرتا ہے، مارتا بھی ہے، ڈانتا بھی ہے مگر پیار بھی بے انتہا کرتا ہے اور کیا تم سب بھول گئے اس کا پیار؟
رَن پڑا ہے غدر مچا ہے وحشت ایسی وحشت ہے
کچھ سر تن سے جدا ہوئے
کچھ بازو کٹ کے دور ہوئے
کچھ لمحوں مے بے دم ہوئے
کچھ منہ پھیر کے دوڑ گئے
جو بے دم ہوئے وہ شہید ہوئے جو دوڑ گئے, وہ تاریخ مے کالا دھبہ ہوئے اور جو خاموش رہے وہ شکوہ لب نہیں بلکہ انکو بھی پشیمانی ہے.
جان آج نہیں تو کل تو جانی ہی ہے اس جان کی کوئی بات نھی, صرف مقصد پر غور اور فکر ہونا چاہیے، نقش ایسے چھوڑ کہ جاؤ کہ آنے والی نسل بھی تمھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں نہ کہ میر جعفر اور میر صادق کے القاب بھی چھوٹے پڑ جائیں.
آؤ کہ اس سے پہلے بہت دیر ہوجائے۔
