لیاقت آباد اور بھٹو سن 1974 لیاقت آباد سپر مارکیٹ کا افتتاح اور عظیم الشان جلسہ ذوالفقار علی بھٹو کے لیے جی وہی بھٹو جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ تھے، جلسہ کہاں تھا ؟ “لیاقت آباد میں!!؟
سنا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کی آمد ہوئ تھی لیاقت آباد میں تو پھولوں کی بارش کی گئی تھی ایسا استقبال تھا کہ دیکھنے کے قابل تھا، لیاقت آباد کی عوام نے ذوالفقار علی بھٹو کو سر پر بیٹھایا تھا اس دن ۔۔۔۔۔۔
لیکن اچانک ایسا کیا ہوا تھا اس جلسے میں کہ اسی ذوالفقار علی بھٹو کو جوتے مارے گئے تھے.. !! اور بمشکل ذوالفقار علی بھٹو جلسہ گاہ سے بھاگے تھے۔۔۔۔ جاتے ہوئے ان کے الفاظ تھے کہ “لیاقت آباد والے سر پر بیٹھا کر رکھتے ہیں تو سر سے اٹھا کر پھینک بھی دیتے ہیں”۔
بھٹو صاحب کو جب جوتے مارے تو انہوں نے ایک اور دلچسپ جملہ بولا تھا انہوں نے کہا تھا کہ” ہاں مجھے معلوم ہے کہ میرے دور حکومت میں چمڑا سستا ہوگیا ہے”۔
لیاقت آباد کے اس جلسے کو سیاسی اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ اسی جلسے میں پہلی بار “روٹی کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگایا گیا تھا اور اسی جلسے میں بھٹو کو جوتے مارے گئے تھے اور لیاقت آباد کی سیاست سے نکال دیا گیا تھا۔
پھر بھٹو صاحب لیاقت آباد کبھی نہ آسکے
گو انہوں نے 1978 میں آنے کی کوشش کی مگر انہیں جنرل ضیا نے گرفتار کرلیا تھا اور لالوکھیت دس نمبر کی امام بارگاہ کے ساتھ ہونے والا جلسہ مؤخر ہوگیا تھا۔
ویسے تو پی پی والوں کے لیاقت آباد میں سینکڑوں پروگرام ہوئے ہیں لیکن 1974 کے بعد نا کبھی ذوالفقار علی بھٹو نے اور نا انکے بعد پی پی کی مرکزی قیادت نے لیاقت آباد میں جلسہ کیا۔
کل 44 سال بعد پی پی کی قیادت نے اسی لیاقت آباد کا رخ کیا جہاں سے روٹی کپڑے اور مکان کی سیاست کا آغاز اور بھٹو کی سیاست کا اختتام ہوا تھس۔
کل نواسہ بھٹو نے لیاقت آباد میں جلسہ کیا لیکن اس جلسے کا مرکزی خیال الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے گرد گھومتا رہا۔
اب دیکھنا ہے نانا کی روایت قائم رکھتے ہوئے نواسہ بھٹو دوبارہ لیاقت آباد کا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔۔
تعارف: #نمرہ_شیخ بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، انہیں ٹوئیٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
نوٹ: بلاگر کی ذاتی رائے سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں، پوسٹ کے نیچے آنے والے کمنٹس ادارتی پالیسی کا حصہ نہیں ہیں۔
