Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی کی شکل بدلنے کا ٹاسک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر رضوان احمد فکری | زرائع نیوز

کراچی کی شکل بدلنے کا ٹاسک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر رضوان احمد فکری

کراچی کی شکل بدلنے کا ٹاسک۔۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ کا وزیر اعلی کو ٹاسک مناسب فیصلہ ہے۔ لوکل ٹرین چلنے کی امید۔۔۔میئر کراچی کو اختیارات اور انکی ٹیم کو سپورٹ کیا جاتا تو نقشہ بدل سکتا تھا

سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار نے 7اور 9مئی2019 کو سپریم کورٹکراچی رجسٹری میں اپنے احکامات اور کراچی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر کراچی کے تمام ادارے بشمول کنٹومنٹ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔تجاوزات کا کپتان میئر کراچی کے بجائے وزیر اعلی سندھ کو بنا دیا گیا ہے۔ ایک ہفتہ میں سی بریز پلازہ کو مسمار کرنے اور پچھلے احکامات کی عمل داری نہ ہونے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کو توہین عدالت کا نوٹس اور میئر کراچی وڈی جی ایس بی سی اے کی بھی سرزنش کی گئی ہے۔موجودہ احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر کراچی کے لوکل گورنمنٹ کے اداروں اور کنٹومنٹ کے لئے رمضان المبارک میں عمل درآمد امتحان سے کم نہیں اور سندھ حکومت کے لئے بھی کوئی نیک شگون نہیں۔ گو ماضی میں میئر کراچی وسیم اختر اور انکی ٹیم میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمان، انسداد تجاوزات کے سینئر ڈائریکٹر بشیر صدیقی اور انکی ٹیم نے کراچی کی شکل بدلنے کے لئے جو کام کئے وہ قابل تعریف تھے۔ لیکن پولیس، قبضہ گروپ،با اثر سیاست دانوں نے دوبارہ تجاوزات قائم کرادیں۔ یہ بھی اڑا یا گیا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن بند ہوگیا ہے۔ جن افسران نے بڑھ چڑھ کر حسہ لیا انکا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ بلاول بھٹو سمیت تمام سیاست دانوں اور حکومتی شخصیات نے کہا کہ میئر لوگوں کو بے روزگار کر رہا ہے۔ آپریشن کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی جس پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میئر کو سیاسی بنیادوں پر حدف نہ بنایا جائے انہیں کام کرنے دیا جائے۔ نئے چیف جسٹس آصف کھوسہ نے چیف سیکریٹری کی ذمہ داری لگائی جس کے بعد تجاوزات کی کاروائی کی کپتانی ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائم خانی کو مل گئی۔ میئر کراچی کو تجاوزات ہٹانے کے بعد ملبہ ہٹانے کے لئے فنڈز بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بنعد ملے۔ پی پی پی کی حکومت نے میئر کو اختیارات پہلے نہیں دیئے تھے۔ بعض علاقوں میں سیاسی بنیادوں پر کاروائی رکوا دی گئی جس میں لیاری وغیرہ شامل تھے۔ اب تمام ادارے بشمول وزیر اعلی سندھ و سندھ حکومت پریشان ہیں۔ لیکن میئر کراچی مطمئن ہیں انہیں کام سے روکا گیا۔ وہ کراچی کے مختلف علاقوں میں فلاحی زمینوں، فٹ پاتھوں پر سے تجاوزات ہر صورت ختم کرنا چاہتے تھے۔ اب بھی انکی اسپرٹ یہی ہے وہ کے ایم سی سے این زاو سی کے بغیر بلڈنگوں کی تعمیرات پر بھی احتجاجی ہیں۔ جسٹس گلزار نے عمل درآمد کے لئے لوکل گورنمنٹ اور سندھ حکومت دونوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ شادی ہالوں، رہائشی جگہ کے کمرشل استعمال پر کاروائی کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ اس سے قبل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 932کی لسٹ تیار کرلی تھی جو طوفان سے کم نہیں تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔۔ سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر نے الفاظوں کی تبدیلی کے ساتھ ایک جیسا موقف اختیار کیا ہے اور اپنی نشستیں چھوڑنے اور رہائشی علاقوں کو نہ توڑنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ جب تک رہائشی علاقوں کے متبادل کا انتظام نہ ہو کاروائی نہ کی جائے وہ دونوں عمل درآمد پر راضی ہیں لیکن مناسب لائحہ عمل کے بعد۔۔ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی بار بار موقف میں یو ٹرن بھی مارتی رہی ہیں۔انتہائی سنجیدہ سمجھے جانے والے سندھ کے وزیر اطلاعات مرتضی وہاب بھی بلف Bulf مارتے رہے اور ایم کیو ایم پر ملبہ لادنے کے فلسفے پر عمل پیرا رہے کہ میئر لوگوں کو تکلیف دے رہے ہیں لیکن جسٹس گلزار نے وزیر اعلی سندھ کو ذمہ دار قرار دلا کر انکے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں 15دن میں لوکل ٹرین ٹریک سے تجاوزات ہٹانے کی پابندی اور ایک ماہ میں لوکل ٹرین چلانے کا حکم بھی نیندیں اڑانے والا ہے جہاں رہائشی افراد کو ٹریک سے بے دخلی شامل ہے راستے میں 10، 10منزلہ عمارتیں ہیں رمضان میں انہیں بے گھر کرنا انتہائی چیلنج ہے۔ لیکن جسٹس گلزار کے فیصلے سے شہر کی حالت بدلنے کی امید بھی بند چلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چالیس سال تک کراچی کی ابتر حالت کا ذمہ دار کون ہے؟ 1987میں ڈاکٹر فاروق ستار میئر کراچی بنے، چار زیڈ ایم سیز میں جمشید احمد خان (مسلم لیگ)، محمود ہاشمی (ایم کیو ایم بلدیہ شرقی)، شاہد لطیف (ایم کیو ایم بلدیہ وسطی)، محمد عرفان خان ۰ایم کیو ایم بلدیہ غربی) تھے۔ انہوں نے کتنی چائنا کٹنگ کی۔ ایک بھی چائنا کٹنگ نہیں سامنے آئے گی۔ کیونکہ زمینوں کی الاٹمنٹ کے ڈی اے کرتی تھی۔ چالیس سال میں اسی فیصد دور پیپلزپارٹی کا ہے۔ جبکہ چالیس سال میں تین ادوار ایم کیو ایم کے بلدیاتی دور کے ہیں۔ 2005میں مصطفی کمال، 2016میں وسیم اختر، جبکہ 2001میں نعمت اللہ خان، 1994میں فہیم ذمان خان اور پی پی پی کی مشاورتی کونسل، 1996میں پانچ ڈی ایم سیز کا قیام اور مشاورتی کونسل پی پی پی کا قیام، 1997میں سینئر وزیر فاروق ستار کے کووآردینیٹرز کی بلدیاتی اداروں میں تعیناتی، اب 1988میں سندھ کی حکومت پی پی پی کی، وقفے وقفے سے پی پی پی ہی اقتدار میں آتی رہی۔ 40سال میں اکثریت دور ایڈمنسٹریٹرز کا ہے جو سندھ حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے سندھ حکومت کے ماتحت ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تمام ادوار میں الاٹمنٹ کا اختیار سندھ حکومت کے پاس رہا۔لہزا اسکا تعین ہونا ضروری ہے کہ سندھ حکومت نے جسٹس گلزار کے طلب کردہ پلان کی کتبی خلاف ورزی کی ہے۔ کیونکہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی 2001تک کے ایم سی ونگ اور کے ڈی اے ونگ الگ تھا۔تحقیقات کی جائیں کے ایم سی نے کیا غلط کام کیا اور کے ڈی اے نے کتنا؟ ایک عام فردبھی سمجھ سکتا ہے کہ سندھ حکومت قصور وار ہے۔ ایم کیو ایم نے نمک برابر چائنا کٹنگ کی ہے۔ شہر میں صرف 23فیصد کنٹرول زمینوں کا کے ایم سی کے پاس ہے۔ باقی 77فیصد زمینوں پر چائنا کٹنگ یا وائلیشن کس نے کی؟ اس لئے سیاسی جماعتوں کے یو ٹرن انہیں بے نقاب ہونے سے نہیں روک سکتے۔ بورڈ آف ریونیو، ڈی سی لینڈ، سندھ کچی آبادی، کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے سندھ حکومت کے پاس رہے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن، منظور کاکا اسکینڈل، ثاقب سومرو اسکینڈل، زمینوں کی بندر بانٹ سندھ حکومت سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایم کیو ایم کی غلطیاں اور سندھ حکومت کی فاش غلطیاں بھی جسٹس گلزار کے سامنے آجائیں گی۔ بہر حال یہ حقیقت آشکار کرنا مقصود ہے کہ پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے کراچی میں رہائشی افراد جو کسی بھی فرد یا جماعت کی غلطی سے اسوقت بے گھر ہونے والے ہیں انکے لئے مثبت پیش رفت کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بنک نے کچی آبادیوں کو فلیٹس بنا کر ایڈجسٹ کرنے کا ایک فارمولہ دیا تھا۔ اس پر عمل کرتے ہوئے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت انہیں ایڈجسٹ کرسکتی ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر کی یہ تجویز بھی درست ہے کہ ہر عمارت گرانے کے بجائے سندھ ھکومت اپیل میں جائے اور قانون کے مطابق یا ترامیم کے ذریعے انہیں تحفظ دلائے بالخصوص رہائشی افراد کے لئے کوئی متبادل منصوبہ سامنے لایا جائے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں میئر کراچی وسیم اختر اور انکی ٹیم نے مثالی کام کیا ہے۔ ایسی تجاوزات بھی ہٹائی گئیں جو نا ممکن تھیں۔ اورنگی ٹاون میں یو سی ڈی، علی گڑھ، نیشنل میرج ہال، دس نمبر اورنگی ٹاؤن، تیرہ ایچ اورنگی ٹاؤن۔ تیرہ جی اورنگی ٹاون، گلشن ضیاء کے مختلف علاقے شامل ہیں۔ جبکہ ایمپریس مارکیٹ۔ کراچی کے متعدد علاقوں کو تجاوزات سے پاک کیا گیا۔ ایم اے جناح روڈ، لائٹ ہاؤس، گارڈن، لیاقت آباد، ناظم آباد، نیو کراچی، نارتھ کراچی، لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل سمیت متعدد علاقے شامل ہیں جبکہ حکومت سندھ کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے لیاری، اردو بازار، باغ ارم، ڈی بلاک، گلشن ضیاء کے مختلف بلاکس، اورنگی ٹاؤن کے پارکس، پرانا گولیمار پاک کالونی، سائٹ، کراچی کے مختلف علاقوں کی ایس ٹی بشمول اورنگی ٹاؤن اب دوبارہ آپریشن میں کلیئر کی جائیں گی۔جس میں لانڈھی، کورنگی اور گلشن اقبال کے علاقے شامل ہوں گے۔ کچھ نہ کچھ غلطیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے احکامات پر درست انداز میں عمل کیا گیا۔ لیکن بعض اداروں نے میئر کراچی کے بجائے ازخود ایکشن لیا جو خود ساختہ تھا اس میں ضلعی انتظامیہ شامل ہے۔ جبکہ ڈی ایم سیز نے بھی حد سے تجاوز کیا۔ جسکی وجہ سے مسائل پیداہوئے۔ بلدیہ کورنگی، وسطی، جنوبی، شرقی نے بلدیہ کراچی کی چھتری تلے کام کیا جس سے خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن غربی، ملیر نے ازخود ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر قانونی جگہیں بھی توڑ دیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ جسکا کام ہے وہ کرے ورنہ آپریشن مسائل کا شکار ہوجائے گا۔ یہ بھی ہوا ہے کہ تجاوزات کے خلاف بھرپور ایماندارانہ کاروائی پر مخالفانہ خبریں، چینلوں پر ڈبے سیاسی بنیادوں اور اس افسر کو سیٹ سے ہٹانے کے لئے چلوائے گئے۔ جسٹس گلزار کو ایسے افسران کو سپورٹ اور تحفظ دینے کے لئے بھی کوئی رولنگ دینی ہوگی۔ چینلوں کے اس رویئے پر سپریم کورٹ سے کاروائی کا عندیہ دینا ہوگا تاکہ کھل کر افسران کام کر سکیں۔جسٹس گلزار کراچی کے شہریوں کے لئے امید کی کرن ہے۔ لیکن اسے متنازعہ اور دیگر اامور سے پاک کرنے کے لئے تمام اداروں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرکے مسئلہ کا مثبت حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بے روزگار اور گھروں سے محروم اور مسائل کا شکار افراد کراچی کے امن کے لئے خطرہ اور اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافے کا سبب ہوں گے۔یہ معاملہ انسانی بنیادوں پر دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ جسٹس گلزار کے اقدامات قابل تحسین لیکن کچھ معاملات پر حکومت سندھ اور کراچی کے اسٹیک ہولڈرز عدلتوں سے رجوع کریں۔


رضوان فکری سے بذریعہ تحریر: رضوان احمد فکری rizwanahmedfikri1@gmail.com رابطہ کیا جاسکتا ہے۔