(حافظ اسامہ قادری کے بیان پر نشر مکرر)
سلویسٹر سٹالون ہالی وڈ کے مشہور اداکاروں میں سے ہیں، ان کی ریمبو سیریز آج بھی مقبول ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے- اس سیریز میں سلویسٹر نے جان ریمبو نامی ایک شخص کا کردار ادا کیا ہے- افضل خان ایک پاکستانی اداکار ہیں، ان کی صورت کسی حد تک سلوسٹر سے ملتی ہے اور اسی مناسبت سے انہوں نے اپنا نام جان ریمبو رکھ لیا- آج وہ ریمبو کی نام سے جانے جاتے ہیں اور افضل خان کو شاید ہی کوئی جانتا ہو- سلوسٹر، افضل خان کو جانتے بھی نہیں ہوں گے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سلوسٹر ہی افضل کی کامیابی اور شناخت کے پیچھے ہیں-
ہندوستان میں دلیپ کمار اور دیو آنند سے لے کر سلمان خان اور شاہ رخ خان تک ہر فلمی ستارے کے کسی نہ کسی ہم شکل نے ٹی وی، فلمز اور تھیٹر پر صرف اس لئے کام حاصل کیا کہ اس کی شکل کسی ستارے سے ملتی تھی- یہ شناخت قدرت کی عطا ہے، وہ جس کو جیسا چاہے بنا دے- آج سوشل میڈیا پر دھوم مچانے والے ممکری آرٹسٹس کو ہی دیکھ لیجئے، ان کی شناخت یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نقالی کر سکتے ہیں یا ان کی آواز نکال سکتے ہیں-
سیاست کو دیکھئے تو ہندوستان میں گاندھی فیملی کی واحد شناخت یہ ہے کہ وہ نہرو کے خاندان سے ہیں، پاکستان میں بھٹو پریوار کا اور بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کا بھی یہی حال ہے- کرکٹ کی مثال لیجئے تو بازد خان صرف اس لئے ٹی وی شوز میں ایکسپرٹ بن کر بیٹھ جاتے ہیں کہ وہ ماجد خان کے بیٹے اور جہانگیر خان کے پوتے ہیں- کہیں نہ کہیں ہر شخص کی شناخت کے پیچھے کوئی اور ہے- جو خود اپنی شناخت بنا سکیں ایسے سیلف میڈ لوگ بہت کم ملتے ہیں، اور دوسروں کو شناخت دینے والے “سیلف لیس” یعنی “بے غرض” افراد تو بالکل ہی معدوم ہیں-
ایسا ہی ایک بے غرض شخص ہے الطاف حسین جس نے ایک قوم کو تو شناخت دی لیکن ساتھ ہی عام لوگوں کو خاص کر دیا- میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں کہ تمام اسمبلی اراکین ایوانوں میں منتخب ہونے سے پہلے کیا کرتے تھے؟ ان کی شناخت کیا تھی؟ ان کے والدین کون ہیں، خاندانی پس منظر کیا ہے؟ کتنے معروف ہیں، کتنے مشہور ہیں؟ کیا سنہ ٢٠٠٢ سے پہلے کوئی مصطفیٰ کمال صاحب کو جانتا تھا؟ کیا میئر وسیم اختر صاحب ایک پیدائشی سلیبرٹی تھے؟ کیا گورنر عشرت العباد صاحب خاندانی رئیس تھے؟ کیا عامر خان بہت برا سیاسی قد کاٹھ رکھتے تھے؟ کیا انیس قائم خانی صاحب کوئی وڈیرے تھے؟ جاگیردار تھے؟ کیا انیس ایڈووکیٹ ہمیشہ سے میرپور خاص میں ایک مقام رکھتے تھے؟ کیا رضا ہارون صاحب کو ان کے محلے میں بھی کوئی جانتا تھا؟ کیا ڈاکٹر صغیر صاحب کو بچپن میں ہی صحت کا محکمہ مل گیا تھا؟
ایسا ہرگز نہیں تھا، یہ سب عام سے لوگ تھے، جن کی کوئی شناخت نہیں تھی، کوئی آواز نہیں تھی- یہ بولنا چاہتے بھی تو سننے والے نہ ڈھونڈ پاتے، یہ ایوانوں میں جانا تو دور، ایوانوں کی گلیوں میں بھی نہ جا پاتے- یہ کسی اور سیاسی جماعت میں جاتے تو صرف پوسٹر لگانے اور جھنڈے لہرانے تک محدود رہتے- یہ نوکری ڈھونڈتے تو شائد اس میں بھی مشکلات کا شکار رہتے- یہ عام پیدا ہوئے تھے اور ساری زندگی عام ہی رہتے- آپ ایمانداری سے بتائیے کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو اپنے بل بوتے پر وہ آسائشیں، وہ مکانات، وہ گاڑیاں افورڈ کر پاتے جو آج ان کے پاس ہیں؟
انہیں اسمبلی میں بھیجا الطاف حسین نے، انہیں وڈیروں جاگیرداروں کے برابر بٹھایا تو الطاف حسین نے، ان کو شعور دیا، آگہی دی تو الطاف حسین نے، ان کی تربیت کی الطاف حسین نے، انہیں لوگوں نے چاہا تو الطاف حسین کے نام پر، انہیں ووٹ دیے گئے الطاف حسین کے کہنے پر، انہیں عزت ملی تو ایم کیو ایم کی وجہ سے، انہیں وزارتیں ملیں تو وہ بھی ایم کیو ایم کے سبب، آج ٹی وی پر انہیں جگہ ملتی ہے، پریس کانفرنسز کور ہوتی ہیں تو وہ بھی اس لئے کہ ان کی شناخت ایم کیو ایم تھی، الطاف حسین کی ایم کیو ایم-
اگر آپ نے الطاف حسین سے راستے جدا کر بھی لئے ہیں تو آپ خاموش رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں، لیکن جب جب آپ الطاف حسین پر تنقید کریں گے، میں تب تب آپ سے شکوہ کروں گا، دنیا کا کوئی آدمی الطاف حسین کے بارے میں کچھ بھی کہہ لے میں برا نہیں مانتا لیکن آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آپ کو یہ حق کس نے دیا؟ آپ کی شرم کہاں ڈوب گئی؟ آپ کے وہ عہد و پیماں کیا ہوئے؟ جس شخص نے آپ کو شناخت دی ہے، نام دیا ہے، اس کے خلاف بات کر کے آپ اپنی عزت کم کرتے ہیں، اپنا رتبہ گراتے ہیں- آپ چپ رہ لیں مگر کسی اور کی خوشنودی کے لئے گھٹیا تنقید نہ کیجئے-
آپ کی تمام تر سیاست الیکشنز اور نشستوں کے حصول کے لئے ہے تو یاد رکھیے کہ میں نے زندگی کا پہلا ووٹ جس آدمی کیلیے اور جس نظریے کیلیے دیا تھا آخری بھی اسی کو دوں گا، جسے وه نامزد کر دے اسی کو دوں گا، وہ کہے کہ نہیں دینا تو نہیں دوں گا اور ایسا اس لیے کروں گا کیوں کہ آپ نے جو سلوک اس کے ساتھ کیا وه اوروں کے ساتھ نہیں کیا- سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے تو ہم بھی سر جھکا لیتے لیکن تعصب کی لاٹھی سے مظلوم کو ہی ہانکا جاتا ہے اور تعصب کی عینک سے منظر دھندلا ہی دکھتا ہے سو ایسا ہی ہوا- نہ صاف دکھا اور نہ آپ سے دکھایا گیا-
مسئلہ الطاف حسین کا نہیں، مسئلہ اس شناخت کا ہے جو اس نے آپ کو دی ہے، الطاف حسین سے تو دامن چھڑا لیا، اس شناخت کا کیا کیجئے گا؟ الطاف حسین اگر برا ہے تو آپ بھی نیک نہیں، اگر الطاف حسین کی فکر بلند نہیں تو آپ کی سوچ بھی پست ہے، آپ نے نام، شہرت مقام تو حاصل کر لیا، مگر چھوٹے لوگ تھے سو حرکتیں بھی چھوٹی رہیں-
اس نے قد کاٹھ نکالا ہے زمانے میں بہت
وہ مگر سوچ کا بونا ہے ، یہی رونا ہے
جب ماراگیا ھم پہ شب خون!!!
تو پھر تاریخ بنی 19 جون!!!
شہیدوں کے خون نے ہمیشہ
غلامیوں کے حصار توڑے
19جون 1992 کے تمام شہداء کی عظمت کو سلام
اےالّلہ تحریک کےشہداءکےدرجات کوبلندفرما۔آمین
