زرداری صاحب لاہور کو لاڑکانہ بنانا چاہتے ہیں، ہارون رشید

جی نہیں‘ ملک کا مقدر اقتدار کے یہ بھوکے نہیں سنواریں گے‘ اپنی خواہشات کے غلام۔ وہ کوئی اور ہوں گے۔

جیسا کہ آئن سٹائن نے کہا تھا : مسافر پہ زندگی کا راستہ‘ تبھی کشادہ ہو سکتا ہے‘ اگر وہ قدرت کے منصوبے سے ہم آہنگ ہو۔ ”باقی تفصیلات ہیں‘‘… ایک قدسی حدیث… اور قدسی وہ ہوتی ہے‘ جس کے الفاظ بھی الہام کئے گئے ہوں…یہ بتاتی ہے : آدمی اپنی راہ چلتا ہے اور مالک کی ایک منشا ہوتی ہے۔ اگر خالق سے بندہ مطابقت پیدا نہ کرے تو اپنی راہ میں تھکا دیا جاتا ہے۔ ہوتا بالآخر وہی ہے‘ پروردگار کو جو منظور ہو۔

الیکشن کا موسم قریب آ پہنچا ہے۔وہی کھیل پھر سے شروع ہے‘ جو ایسے میں ہوا کرتا ہے۔ اقتدار کے بھوکے‘ اپنے حربوں‘ وسائل اور لائو لشکر کے ساتھ میدان میں نکل آئے ہیں۔ یہ سرزمین ان کی شکارگاہ ہے۔

پاک افغان سرحد پہ باڑ لگانے کے بارے میں بات مکمل کرنا تھی۔ بیچ میں زرداری صاحب آن ٹپکے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں بھی‘ انہوں نے اظہار خیال کیا ۔ حفاظتی اقدامات کی حمایت کی کہ عسکری قیادت کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔ مگر یہ ارشاد کیا کہ سرحدوں کے نظم و نسق پر دونوں ملکوں کو اتفاق رائے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ پڑوسیوں کے ساتھ اتفاق اگر ہو سکے تو سبحان اللہ۔ اگر نہ ہو تو کیا گھر کی حفاظت کا بندوبست نہ کیا جائے؟

افغانستان کو شکایت ہے کہ پاکستان سے حملہ آور داخل ہوتے ہیں۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کرنے والوں کو افغانستان نے پناہ دے رکھی ہے۔ یہی نہیں کابل کی خفیہ ایجنسی‘ خدمت اطلاعات دولتی ”را‘‘ کے ساتھ مل کر پاکستان میں قتل و غارت کیاکرتی ہے۔ مفروضے کے طور پر مان لیجئے کہ دراندازی‘ پاکستان سے بھی ہوتی ہے۔ اس کا حل کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ سرحدوں کی نگہداشت اور نگرانی۔ پاکستان اقدامات کر رہا ہے اور برسوں سے۔ افغانستان کیوں نہیں کرتا اور اس میں برسرِکار اصل قوت امریکہ بہادر کیوں نہیں؟ پاکستان نے 2400 کلومیٹر کی پوری سرحد کو زنجیر کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ فرنٹیئر کور کی 29,28 نئی کمپنیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خاص فرض کی ادائیگی کے لئے پوری طرح تربیت یافتہ‘ لگ بھگ 18,17 ہزار افراد۔ اس کے علاوہ موزوں فاصلوں پر قلعہ نما چوکیاں تعمیر کی جائیں گی۔

فقط خاردار تار لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ چنانچہ سرحد کے ساتھ سنسر لگائے جائیں گے اور جہاں کہیں ضرورت ہو گی راڈار بھی۔ بربادی کے عمل کو روکنا ہے تو یہی واحد طریق ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت اس پر یکسو ہے۔پیچیدگی اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ افغان اور ان کے سرپرست امریکی‘ بحران باقی رکھنے کے آرزومند ہیں۔ امریکی اس لئے کہ پاکستان کو وہ محتاج اور منحصر رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر‘ اب وہ اور بھی ناخوش ہیں کہ خطے کی تزویراتی صورتِ حال‘ اس کے نتیجے میں یکسر بدل جائے گی۔ افغان لیڈر اس لیے کہ خانہ جنگی سے ان کا مالی مفاد وابستہ ہے۔ افغانستان اپنے بجٹ کا پانچ فیصدبھی فراہم نہیں کرتا۔

ماہ گزشتہ پاکستان نے سرحد بند کرنے کا جو فیصلہ کیا‘ وہ ثمر خیز ثابت ہوا ۔ اس اقدام کا مشورہ‘ بعض غیر سرکاری شخصیات کی طرف سے دیا گیا تھا۔ عسکری قیادت نے جس پر عمل کیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ پڑوسیوں کے ساتھ نرمی اچھی ہے‘ مگر اتنی بھی نہیں کہ اسے کمزوری سمجھ لیا جائے۔ افغان مہاجرین پاکستان میں پڑے رہیں۔ سمگلنگ کے ذریعے‘ پاکستانی معیشت کو صرف دو تین بلین ڈالر سالانہ کا نقصان پہنچایا جائے‘ بلکہ ”را‘‘ اور ”این ڈی ایس‘‘ کو تخریب کاری کے مواقع بھی ارزاں ہوں۔ کابل میں خانہ جنگی اور خطے میں خرابی برپا رکھنے کے خواہاں لیڈروں کے ہوش کچھ ٹھکانے آئے ہیں۔ چند ہفتے قبل پاکستانی چوکیوں سے‘ افغان سرحدوں کے اندر‘ ایک دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی ہوئی ۔اس کے بعد یہ اقدام۔ اب انہیں احساس ہوا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان سخت فیصلے کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکیوں کو یہ ناگوار تھا۔ وزیراعظم نوازشریف نے اسی لئے یک طرفہ طور پر سرحد کھولنے کا حکم صادر کیا۔ اس اثنا میں مطلوبہ مقصد‘ بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا۔ انتباہ کرنا مطلوب تھا اور وہ کر دیا گیا۔ خوشگوار مراسم قائم رکھنے کے دیرپا ہدف کے ساتھ‘ ضرورت پڑنے پر سخت کارروائی کی حکمت عملی ہی موزوں ترین ہے۔ تھوڑی بہت خرابی برداشت کی جا سکتی ہے‘ خرمستی کی مگر اجازت نہ دی جانی چاہیے۔

زرداری صاحب سمیت سول قیادت کو کوئی پرواہ نہیں۔ ان کے اثاثے ملک سے باہر ہیں اور انہیں امریکہ بہادر کو آسودہ رکھنے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ قومی دفاع ان کے نزدیک فقط فوج کی ذمہ داری ہے۔ عملی تو کیا‘ اس کے لئے نفسیاتی امداد پر بھی وہ آمادہ نہیں۔ ان کا کام فقط نعرہ فروشی کے بل پر ووٹوں کا حصول ہے… ایسی حکمرانی‘ جس میں من مانی کے لیے وہ آزاد ہوں۔

شکار کھیلنے کے لئے زرداری صاحب نے لاہور میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ کراچی میں کوڑے کے ڈھیر پڑے ہیں۔ اندرون سندھ‘ وڈیرے‘ پولیس کی مدد سے‘ خلق خدا کا لہو پیتے ہیں۔ قانون نام کی کسی چیز کا وجود نہیں۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں‘ گٹر ابل رہے ہیں‘ ترقیاتی سرمائے کا بڑا حصہ خردبرد کر لیا جاتا ہے۔ لاڑکانہ کبھی ایک صاف ستھرا شہر تھا۔ سندھی زبان میں ایک ضرب المثل رائج تھی ”ھئی نانو تہ گھم لاڑکانو‘‘ جیب گرم ہے تو لاڑکانہ نہ گھومو۔ اب چند برسوں سے ایک نئی کہاوت وجود میں آئی ہے۔ ”ھئی نانو تہ چھڈ لاڑکانو‘‘ جس کی جیب میں مال ہے‘ اسے لاڑکانہ سے نکل بھاگنا چاہیے۔ زرداری صاحب پنجاب کو لاڑکانہ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ موصوف سندھ کے بارے میں مطمئن ہیں‘ پیرپگاڑہ‘ گھر پر پڑے رہتے ہیں۔ مخالف جماعتوں نے دیہی کیا‘ شہری سندھ میں بھی کام نہیں کیا۔ تحریک انصاف والے باہم لڑنے جھگڑتے رہتے ہیں۔ اب نون لیگ نہ صرف انتشار میں مبتلا ہے بلکہ غوث علی شاہ سمیت دیہی سندھ میں اس کے اکثر رہنما بددل ہو کرجاچکے۔

آئے عشّاق گئے‘ وعدہ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر

زرداری صاحب کا منصوبہ یہ ہے کہ شہری سندھ سے چار پانچ اور پنجاب سے قومی اسمبلی کی بیس پچیس سیٹیں جیت لی جائیں۔ فیصل صالح حیات ایسے لوگوں کی انہیں تلاش ہے جو اپنا ذاتی ووٹ بینک رکھتے ہوں۔ دس‘ بیس کروڑ ان میں سے ہر ایک کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔ ساٹھ‘ ستر سیٹیں مل جائیں تو دوسروں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی جائے۔ دو عوامل اور بھی درکار ہوں گے۔ نون لیگ 85,75 سے زیادہ نشستیں حاصل نہ کر سکے۔ ثانیا کوئی دوسری قابل ذکر پارٹی حکومت سازی کے لئے اس کی مددگار نہ ہو۔ بے دریغ سرمایہ صرف کرنے کے لیے جناب زرداری نے کھرب پتی پراپرٹی ڈیلروں سے رابطے کئے ہیں۔ سندھ حکومت نے جنہیں مراعات دیں اور آئندہ بھی دی جا سکتی ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت زرداری صاحب عسکری قیادت کے باب میں محتاط ہیں۔ اگر یہ اندازہ درست ہے تو فوجی عدالتوں کے باب میں رضا ربانی کی شعلہ بیانی‘ محض گرم گفتاری ثابت ہو گی۔ یوں بھی موصوف گرجتے ہیں‘ برستے کبھی نہیں۔ بزدل لوگ بہادری کا فقط خواب دیکھا کرتے ہیں۔ زرداری صاحب کی خوش فہمی یہ بھی ہے کہ ضرورت پڑنے پر تحریک انصاف سے سیٹوں پر مفاہمت ہو سکتی ہے اور حکومت سازی پر بھی۔

کیا یہ ممکن ہے؟ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ایک پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے سیٹوں پر اگر مفاہمت کی تو ردعمل میں اس کا فائدہ نون لیگ کو ہو گا۔ میاں صاحب کو زرداری صاحب کے منصوبے کا ادراک ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر فاروق ستار کی مسکین ایم کیو ایم سے رہ و رسم رکھتے ہیں۔ وہ خود بھی ان سے تعلق استوار کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ معاشرے اداروں کے بل پر تعمیر ہوتے ہیں۔ جب تک سیاسی پارٹیاں شخصیات کی غلام ہیں‘ اداروں کی شکل اختیار نہیں کرتیں‘ برتر مقاصد کے لئے کیسے وہ بروئے کار آ سکتی ہیں؟

جی نہیں‘ ملک کا مقدر اقتدار کے یہ بھوکے نہیں سنواریں گے‘ اپنی خواہشات کے غلام۔ وہ کوئی اور ہوں گے۔

معروف صحافی ہارون الرشید کا یہ کالم ایکسپریس اخبار میں شائع ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: