بھٹو اور پی پی قیادت میں‌ بہت فرق ہے، تحریر حامد میر

دنیا تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے اور بدلتی رہے گی لیکن کچھ اصول اور قانون و قاعدے کبھی نہیں بدلیں گے۔ دنیا میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ماضی سے مت چمٹے رہو۔ ماضی کی کامیابیوں پر فخر ضرور کرو، اپنی تاریخ کو یاد بھی رکھو لیکن ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرلیا جائے تو آگے بڑھنے میں آسانی رہتی ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب ہماری سیاسی جماعتیں اپنی طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیا کرتی تھیں۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا لیکن ان کی سیاسی طاقت کا مرکز پنجاب تھا۔ پھر مارشل لائی حکومتوں کے ایک غیر جماعتی الیکشن نے ہماری سیاست کو ایسا بدلا کہ آج سیاسی جماعتوں کی طاقت کا سرچشمہ امیر لوگ اور ذات برادریاں بن چکی ہیں۔

آج ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کی طاقت سندھ میں محدود ہوچکی ہے۔ سندھ کے امیر ترین لوگ مرکز میں حکومت کرنے والی مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں جارہے ہیں اور پنجاب کے امیر لوگ پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف میں جاچکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ سندھ جایا کرتے تھے۔ اب بھٹو کی برسی میں زیادہ تر سندھی شریک ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے ایک صاحب سے گفتگو ہورہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں میں بڑا فرق ہے۔ قیادت منت سماجت کرکے انہیں پارٹی میں لائی لیکن پارٹی میں زندہ رہنے کے لئے انہیں کارکنوں کی منت سماجت اور خوشامد کرنی پڑتی ہے۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ بھٹو صاحب کی کتابیں پڑھا کریں اور اپنی تقاریر میں ان کی کتابوں کے حوالے دیا کریں تو پیپلز پارٹی کے کارکن آپ کے نزدیک آجائیں گے اور آپ کو کسی کا ناز نخرہ نہیں اٹھانا پڑے گا۔ یہ سن کر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ کتابیں پڑھنا مشکل کام ہے کوئی اور نسخہ بتائیے۔ جس لیڈر کیلئے کتاب پڑھنا مشکل اور دولت خرچ کرنا آسان ہو وہ کبھی تاریخ میں زندہ نہیں رہتا۔ کتاب نہ پڑھو گے تو پتہ کیسے چلے گا کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی بہت سی خامیوں اور غلطیوں کے باوجود آج بھی’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا نعرہ بن کر کیوں گونجتا رہتا ہے؟

پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت پنجاب میں اپنی تنظیم کو دوبارہ متحرک کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ اس مقصد کیلئے لاہور، ملتان اور اسلام آباد میں بڑے بڑے بلاول ہائوس بنائے جارہے ہیں۔ بلاول ہائوس ضرور بنائیں لیکن پاکستان کی نئی نسل کو یہ بھی تو بتائیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کون تھا اور اس نے پیپلز پارٹی کیوں بنائی؟ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں میں کیا فرق ہے؟

پیپلز پارٹی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو مسئلہ کشمیر کی پیداوار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک ڈکٹیٹر ایوب خان کے وزیر خارجہ تھے لیکن تاشقند معاہدے پر ان کا ایوب خان سے اختلاف ہوا اور انہوں نے وزارت خارجہ چھوڑ کر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ بھٹو صاحب نے بہت سی غلطیاں کیں لیکن چند کام ایسے کئے جن کی وجہ سے وہ پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ کچھ غلطیوں کااعتراف تو انہوں نے خود بھی کیا۔ ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے فوج اور حساس اداروں کو خود سیاست میں ملوث کیا۔

آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر بریگیڈئیر( ریٹائرڈ) سید احمد ارشاد ترمذی نے اپنی کتاب ’’حساس ادارے‘‘ میں لکھا ہے کہ 1976کے وسط میں آئی ایس آئی کے فیلڈ اسٹاف کو ملک کی سیاسی صورتحال پر رپورٹیں مرتب کرنے کا کام سونپا گیا۔ 1977کے انتخابات کے بعد صورتحال خراب ہونے لگی تو بھٹو صاحب نے آئی ایس آئی کی متوازن اور دیانتدارانہ رپورٹنگ پر زیادہ اعتماد کرنا شروع کردیا۔ بریگیڈئر ترمذی لکھتے ہیں کہ میں نے کئی بار اپنے ڈی جی جنرل جیلانی کو بعض احکامات کی تعمیل سے بچنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ ہمارے دائرہ فرائض میں نہیں آتے تھے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔

ترمذی صاحب نے لکھا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک غیر ملکی سرمائے کی مرہون منت تھی اور کچھ امریکی سفارتکاروںنے اس تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ کی بھٹو سے نفرت کی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا۔ بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل ضیاء الحق برسراقتدار آئے تو انہوں نے آئی ایس آئی سے پوچھا کہ بھٹو کو پھانسی دینی چاہئے یا نہیں؟ آئی ایس آئی نے ایک مفصل سروے اور بحث مباحثے کے بعد جنرل ضیاء کو مشورہ دیا کہ بھٹو کو موت کی سزا نہیں دینی چاہئے لیکن اس کے باوجود بھٹو صاحب کو4اپریل 1979کو پھانسی دے دی گئی۔

بریگیڈئر(ریٹارئرڈ) ترمذی لکھتے ہیں کہ بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے کے احکامات واشنگٹن سے آئے تھے۔ ترمذی صاحب نے امریکی سفارتخانے کے ٹیلکس روم تک رسائی حاصل کرکے واشنگٹن سے آنیوالے ایک اہم خفیہ پیغام کی نقل حاصل کی جس میں امریکی سفارتخانے سے کہا گیا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کو یقینی بنایا جائے۔

اس پیغام کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد جنرل جیلانی کو دکھایا گیا۔ پھر جنرل ریاض کے حکم پر اس پیغام کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شمیم حسین قادری کے سامنے رکھا گیا۔ ان کی قانونی رائے لے کر یہ پیغام جنرل ضیاء تک پہنچا دیا گیا۔ آئی ایس آئی کے مشورے کے برعکس جنرل ضیاء نے بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ بھٹو چاہتے تو پھانسی سے بچ سکتے تھے۔

ترکی نے جنرل ضیاء کو پیشکش کی کہ اگر بھٹو کی جاں بخشی کردی جائے تو بھٹو دس سال تک سیاست میں حصہ نہیں لیں گے اور ترکی میں جلا وطنی کی زندگی گزاردیں گے۔ بھٹو نے یہ ڈیل کرنے سے انکار کردیا۔ تنظیم آزادی فلسطین کے سربراہ یاسر عرفات نے کمانڈو ایکشن کے ذریعہ بھٹو کو جیل سے رہا کرانے کا منصوبہ بنایا۔ منصوبےکے تحت بھٹو کو بھارت کے راستے فرار کرایا جانا تھا لیکن بھٹو نے اس منصوبے کو بھی مسترد کردیا اور تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں مرنے کو ترجیح دی۔ اس شاندار موت نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا اورپھر کئی برس تک بھٹو کی برسی پر یہ نعرہ گونجا کرتا تھا……’’بھٹو کا قاتل امریکہ‘‘ لیکن پیپلز پارٹی نے امریکہ کے ساتھ دشمنی قائم رکھنے کی بجائے امریکہ سے مفاہمت کرلی اور اس مفاہمت کا فائدہ بھی اٹھایا۔

آج کی نئی نسل کو یہ نہیں پتا کہ امریکی سی آئی اے نے پاکستان کی کچھ مذہبی جماعتوں اور ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ مل کر بھٹو کو پھانسی پر کیوں لٹکایا؟ نئی نسل تو یہ جانتی ہے کہ جنرل ضیاء کی برسی پر آنسو بھری تقریریں کرنے والے حسین حقانی کو پیپلز پارٹی نے امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنایا اور حسین حقانی نے امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کو دھڑا دھڑ ویزے دے کر پاکستان بھیجا تاکہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا جاسکے۔ اب پیپلز پارٹی حسین حقانی سے اعلان لاتعلقی کررہی ہے لیکن پیپلز پارٹی سمیت ملک کی اہم سیاسی جماعتوں میں ایسے کئی حسین حقانی موجود ہیں جن کے مفادات پاکستان سے نہیں بلکہ کسی اور ملک سے وابستہ ہیں۔ ان سب جماعتوں کو چاہئے کہ اپنی سیاسی طاقت کا سرچشمہ پاکستان سے باہر نہیں پاکستان کے اندر تلاش کریں۔ امیر اور ابن الوقت سیاستدانوں کی بجائے عوام کو اپنی طاقت بنائیں کیونکہ عوام کبھی بے وفا نہیں ہوتے، جو عوام سے وفا کرتا ہے عوام اس سے وفا کرتے ہیں۔ کوئی بھی غیر ملکی طاقت پاکستان کی بقاو سلامتی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ پاکستان کی بقا و سلامتی کی واحد ضمانت عوام پر اعتماد اور عوام کا اتحاد ہے۔ اس اتحاد کی ضمانت 1973کے متفقہ آئین کی بالادستی ہے اور یہ آئین، بھٹو کا بے مثال کارنامہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: