کراچی; ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی آٹے کے ساتھ مرغی کی قیمتوں کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔
درامدی سویا بین کی کلیئرنس نہ ہونے سے مرغی کی افزائش متاثر ہونے لگی موسم سرما کی طلب پوری کرنا دشوار ہوگیا جس سے ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی مرغی کا گوشت اور انڈے مہنگے ہوگئے مرغی کا گوشت 600 روپے کلو فروخت ہونے لگا انڈے 300 روپے درجن ہوگئے مہنگائی کے مارے عوام کی مشکل میں ہر روز اضافہ ہونے لگا۔
مرغی فروشوں کا کہنا ہے کہ سپلائی پچاس فیصد تک کم ہے پولٹری فارمرز نے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں دوسری جانب پولٹری فارمرز کا کہنا ہے کہ درآمدی سویا بین کلیر نہیں ہونے سے فیڈ ملیں بند ہیں مرغی کی افزائش کس طرح کریں مرغی مزید بھی مہنگی ہوگی۔
شہر بھر میں آٹے کی قیمت میں یومیہ بنیادوں پر اضافہ ہورہا ہے سرکاری نرخ سرکار کے نوٹیفکیشن تک ہی محدود ہیں سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو 65 روپے کلو قیمت پر سستے آٹے کی فراہمی کے دعوے بھی عوام کی مشکلات کم نہ کرسکیں یوٹلیٹی اسٹورز سے بھی آٹا بدستور غائب ہے۔
اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 135 روپے کلو کی سطح پر اگئی، فلور ملز کا آٹا 140 جبکہ چھوٹی چکیوں کا آٹا 160 روپے کلو بکنے لگا۔
تاجروں کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتہ میں گندم کی قیمت 40 روپے کلو تک بڑھ گئی فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ کو گندم کی درآمد کی اجازت دی جائے اور سرکاری زخائر سے فلور ملوں کا کوٹہ بڑھایا جائے تو آٹے کی قیمت 100 روپے کلو کی سطح پر لائی جاسکتی ہے۔
